خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 414 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 414

خطابات طاہر جلد دوم 414 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ 1996ء بحجز میں تبدیل کردیں گے، ہر تکبر ٹوٹ کر آپ کے قدموں پہ بکھر جائے گا تب دنیا میں وہ توحید ظاہر ہوگی جو اللہ کی تو حید محمد مصطفی ﷺ کے حوالے سے، آپ کی برکت سے، آپ کے واسطے سے ہمیں عطا ہوئی ہے۔خدا کرے کہ وہ دن جلد سے جلد تر آئیں۔آمین اب کل کا دن خدا کے فضلوں کے ذکر کا دن ہو گا۔میں آپ کے سامنے انشاء اللہ تعالیٰ اس مضمون کو نسبتاً کھول کر زیادہ معتین حوالوں کے ساتھ پیش کروں گا۔جب میں کہتا ہوں کہ جن راہوں پر میں آپ کو بلا رہا ہوں اللہ نے خود آپ کو بلا لیا ہے اور آپ کے قدم ان راہوں کی طرف تیزی سے اٹھ رہے ہیں تو اس میں ایک ادنیٰ بھی مبالغہ نہیں ہے، بالکل حقیقت کا اظہار ہے مگر اس کے باوجود میں دیکھ رہا ہوں کہ ابھی بہت سی کمزوریاں ہم میں ہیں جنہیں دور کرنا باقی ہے۔کسی نخوت کی وجہ سے نہیں بلکہ اظہار حقیقت کے طور پر میں یہ تسلیم کرنے پہ مجبور ہوں کہ مجھ میں بھی بہت سی کمزوریاں ہیں جن کا دور کرنا باقی ہے، آپ میں بھی بہت سی کمزوریاں ہیں۔اگر خدا نے اتنے فضل فرمائے ہیں تو ان فضلوں کے تشکر کے اظہار کا ایک یہ بھی تو ذریعہ ہے کہ ہم اپنے آپ کو پہچانیں اور جان لیں کہ ان کمزوریوں کے باوجود خدا فضل فرما رہا ہے۔اگر خدا کی خاطر ان داغوں کو دھونا شروع کریں گے، اگر خدا کی خاطر اپنے اندرونوں کو صاف کرنا شروع کر دیں گے تو پھر دیکھیں خدا اپنے فضلوں کو کس طرح بڑھاتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اس اقتباس پر میں اب اس افتتاحی خطاب کو ختم کرتا ہوں۔جو اللہ کے عشق سے پھوٹا ہے اس کی توحید کے سرچشمے سے جاری ہوا ہے فرماتے ہیں۔” میری ہمدردی کے جوش کا اصل محرک یہ ہے کہ میں نے ایک سونے کی کان نکالی ہے اور مجھے جواہرات کے معدن پر اطلاع ہوئی ہے۔( میں جو بنی نوع انسان سے ہمدردی کا اس قدر جوش رکھتا ہوں تو کیوں رکھتا ہوں ) اور مجھے خوش قسمتی سے ایک چمکتا ہوا اور بے بہا ہیرا اس کان سے ملا ہے اور اس کی اس قدر قیمت ہے کہ اگر میں اپنے ان تمام بنی نوع بھائیوں میں وہ قیمت تقسیم کروں تو سب کے سب اس شخص سے زیادہ دولت مند ہو جائیں گے جس کے پاس آج دنیا میں سب سے بڑھ کر سونا اور چاندی ہے۔وہ ہیرا کیا ہے سچا خدا!