خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 36 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 36

خطابات طاہر جلد دوم 36 36 افتتاحی ب جلسه سالانه ۱۹۸۵ء کی طرف سے ناموافق اور جماعت احمدیہ کی طرف سے موافق آراء کا اظہار ہوا ہے ان کی تعداد دس ہزار ہے۔اتنا شور پڑا ہے دنیا میں، اتنا نام پھیلا ہے جماعت احمدیہ کا اور عزت کے ساتھ نام پھیلا ہے، جتنا ان کا گند تھا اس کا سارا اثر خدا نے دھو دیا اور حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور احمدیت کا نام بڑی عزت کے ساتھ دنیا میں قائم ہوا ہے اور وہ سارے لوگ جو ان کے زہر یلے پروپیگنڈے سے متاثر تھے دیکھتے دیکھتے انہوں نے رنگ بدلے۔جب اُن تک حالات پہنچے ہیں تو کا یا پلٹ گئی اُن کی ، ایسے لوگ بھی تھے جو حکومتی تعلقات کی وجہ سے مجبور تھے پاکستان کے ساتھ ہاں میں ہاں ملانے پر یا کچھ مدد کرنے پر، ان کو جب حالات بتائے گئے تو بعض ان میں سے ایسے تھے جنہوں نے کہا کہ اب ہم ہاں میں ہاں ملانے کے قابل تو نہیں رہے لیکن ہم احتجاج بھی نہیں کر سکتے۔چنانچہ ہم نے ان سے کہا کہ ہم آپ کے احتجاج کے خواہاں نہیں ہیں ہم تو صرف حقیقت بتانا چاہتے ہیں آپ کو اور یہ اصولی ہدایت تمام جماعتوں کو میں نے بھجوائی کہ آپ نے کسی دنیا والے سے خیر کی بھیک نہیں مانگنی۔ہم نہ اس کے محتاج ہیں، نہ ہماری عزت اور وقار اس بات کی اجازت دیتے ہیں کہ محتاج بھی ہوں تو غیر کے سامنے ہاتھ پھیلائیں، نہ ہمارا ایمان یہ گوارا کرنے دیتا ہے ہمیں کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی طرف مدد کے لئے دیکھیں اور توقع رکھیں مدد کی۔چنانچہ وہ میرے آنے سے پہلے یا آنے کے بعد شروع میں بعض جماعتیں اور بعض افراد غلطی سے مدد کے لئے پکار رہے تھے، اخباروں کو لکھ رہے تھے، بالکل رخ پلٹ دیا ہم نے اس پراپیگنڈے کا۔ہم نے ان کو بتایا کہ ہم تمہاری مدد کے محتاج نہیں ہیں۔ہم تمہیں یہ بتانا چاہتے ہیں کہ جس کی مدد کے ہم محتاج ہیں وہ ہمارے ساتھ ہے، آج نہیں تو کل تم ضرور دیکھو گے کہ وہ ہمارے ساتھ ہے۔اس لئے تمہاری بقا کا تقاضا ہے تمہارے اپنے مفادات اس بات سے وابستہ ہیں کہ حق کی بات کو حق کے طور پر تسلیم کر دور نہ تم محروم رہ جاؤ گے اور ہم تمہاری راہنمائی کر سکتے ہیں۔تمہیں حالات کا علم نہیں ہے، تمہیں یہ پتہ نہیں کہ دنیا میں اس کے کیا بداثرات مترتب ہوں گے۔تمہیں پتہ نہیں کہ ہم کون ہیں جن پر ہاتھ ڈالنا خدا کی عزت پر ہاتھ ڈالنے کے برابر ہو گیا ہے۔یہ وہ باتیں تھیں جو ہم نے ان کو پہنچا ئیں اور پراپیگنڈے کا بالکل رخ بدل دیا۔پھر یہ بھی بتایا اور یہ سارا کام ان انصار اللہ نے کیا ہے، اَنْصَارِی إِلَی اللہ نے کیا ہے۔ان کو یہ بھی بتایا کہ پاکستان تو ایک مظلوم ملک ہے۔ہم نہ پاکستان کے خلاف ہیں نہ پاکستان