خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 354 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 354

خطابات طاہر جلد دوم 354 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ ۱۹۹۴ء رَسُولُ اللہ جب ان سے کہا جاتا ہے کہ سنو بھائیو! آؤ ہدایت کی طرف آجاؤ محمد رسول اللہ سے معافی مانگو، ہدایت کے طریق اختیار کرو۔محمد رسول اللہ اتنا رحم فرمانے والے ہیں کہ وہ ضرور تمہارے لئے بخشش کی دعا کریں گے۔نووا رُءُوسَهُم سرمٹکاتے ہیں۔کہتے ہیں اس دعا کی ہمارے نزدیک کوئی بھی قیمت نہیں۔کس طرف بلا رہے ہو محمد رسول اللہ کی دعا ہمیں اس کی کوئی پرواہ نہیں اور مسلسل خدا کے رستے سے روکتے چلے جاتے ہیں اور تکبر اختیار کرتے ہیں۔اس فتوے کے بعد پھر قتل کا فتوی آنا چاہئے ، وہ نہیں ہے۔ان باتوں کے بعد اُس واقعہ کا ذکر ہے جس میں محمد رسول کریم عله عبد اللہ بن ابی بن سلول کا جنازہ پڑھنے کے لئے نکلتے ہیں اور قرآن کریم کی دیکھو کیسی عظیم پیشگوئی محمد رسول اللہ کے حق میں پوری ہوتی ہے یہ تو مجسم رحمت ہے۔جو بد بخت بد زبانی میں، بدکلامی میں، گستاخی میں سب سے بڑھا ہوا تھا یہ تو ان کے لئے بھی بخشش چاہتے ہیں۔اگر وہ خود معافی نہ بھی مانگ سکا تو مرنے کے بعد بھی یہی تمنا ہے کہ خدا کے حضور بخشا جائے۔جب تک اللہ تعالیٰ نے دوٹوک فیصلے کی رُو سے آنحضور کو حکماً منع نہیں فرما دیا کہ نہ کبھی ان کی قبر پر کھڑا ہو، نہ کبھی ان کے لئے استغفار کر، اس وقت تک محمد رسول اللہ اس فیصلے سے باز نہیں آئے۔یہ ہے کردار مصطفوی علی ، یہ وہ حسن ہے جو تمام دنیا کے قلوب کو لازماً فتح کر کے رہے گا۔کوئی دل نہیں ہے جو اس حسن پر اطلاع پائے اور اس پر عاشق ہوئے بغیر رہ سکے۔اس حسن کو دنیا کی نظروں سے اوجھل کر کے اپنی بدزبیبیوں ، بدکرداریوں کو اسلام کے نام پر دنیا کے سامنے پیش کرتے ہو۔ابوجہل اور عتبہ اور شیبہ کے اُسوہ کو گستاخی کی رو سے، از حد گستاخی کی رو سے محمد رسول اللہ ﷺ اور آپ کے غلاموں کی طرف منسوب کر کے پیش کرتے ہو۔خدا تمہیں ضرور اس کی سزا دے گا۔تم وہ منافقین ہو، ہاں تم وہ منافقین ہو جن کے متعلق خدا فرماتا ہے کہ خدا کا رسول اگر ستر مرتبہ بھی تمہارے لئے بخشش طلب کریں تو خدا تمہیں نہیں بخشے گا۔کیونکہ تم نے خدا سے بے وفائی کی تم نے خدا کے رسول سے بے وفائی کی تم نے اسلام سے بے وفائی کی اور اپنے دنیاوی اقتدار کی خاطر اسلام کا حلیہ بگاڑ دیا۔پس تمہارے متعلق یہ فتویٰ ہمیشہ کے لئے جاری ہو چکا ہے۔سَوَاءٌ عَلَيْهِمْ أَسْتَغْفَرْتَ لَهُمْ أَمْ لَمْ تَسْتَغْفِرُ لَهُمْ ۖ لَنْ يَغْفِرَ اللهُ لَهُمْ إِنَّ اللهَ لَا يَهْدِى الْقَوْمَ الْفَسِقِينَ (المنافقون:۷) مگر اس کے باوجود میں صلى الله