خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 342
خطابات طاہر جلد دوم 342 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ ۱۹۹۴ء امام شامی آئمہ امت کی رائے بیان کرتے ہوئے ، ( یہ شافعی مسلک کے ہیں ) تمام آئمہ کے متعلق کہتے ہیں کہ تمام آئمہ اس بات پر متفق تھے، یہ تمام امت کا اجماع ہے کہ شاتم رسول یا رسول اللہ ﷺ کی گستاخی کرنے والے کو قتل کیا جائے۔امام ابن ہمام اس فتوے کو تفصیل سے یوں بیان کرتے ہیں کہ جو شخص بھی حضور اکرم ﷺ سے بغض رکھے وہ مرتد ہوجاتا ہے، گالی دینے والا تو بطریق اولی مرتد ہوگا۔ہمارے نزدیک ایسے شخص کو بطور حد قتل کرنا ضروری ہے اور اس کی توبہ قبول کرتے ہوئے اسے معاف نہیں کیا جائے گا۔قرآن کریم مرتد کے متعلق کئی جگہ ذکر فرماتا ہے، ایک جگہ فرماتا ہے جو مرتد ہو پھر مسلمان ہو جائے پھر مرتد ہو پھر مسلمان ہو جائے پھر مرتد ہو اور ایسی حالت میں مرجائے کہ ابھی وہ مرتد ہے اس کو خدا نہیں بخشے گا۔یہ خدا سے بڑھ کر انبیاء کی غیرت رکھنے والے علماء ہیں ، جہاں خدا اجازت دیتا ہے ارتداد کے بعد توبہ کی ، وہاں یہ اجازت نہیں دیتے۔کس خدا کی بات دنیا مانے گی ؟ محمد رسول اللہ کے خدا کی، جس نے قرآن نازل فرمایا یا ان فتویٰ دینے والوں کے خدا کی ، جو بغیر کسی قرآن کے حوالے کے، بغیر کسی قطعی دلیل کے اپنی طرف سے فتوے جھاڑتے چلے جارہے ہیں اور آج کل کے علماء آنکھیں بند کر کے ان کو قبول کرتے چلے جارہے ہیں۔لیکن ان کی غلطیاں میں بتاتا ہوں یہ کہنا بالکل جھوٹ ہے کہ تمام علماء اس بارے میں متفق تھے۔طاہر القادری نے بھی ایک لمبا مضمون لکھا ہے سب اوٹ پٹانگ باتیں وہی ہیں جو میں پہلے بیان کر چکا ہوں اور وہ بھی یہی فتویٰ دیتا ہے کہ ایسے شخص کا قتل واجب فرض ہے اور دلیل یہ پکڑ رہا ہے مَلْعُونِينَ أَيْنَمَا ثُقِفُوا أَخِذُوا وَقُتِلُوْاتَفْتِيلًا (الاحزاب :۶۲) یہ ملعون لوگ ہیں جہاں بھی ان کو پاؤ فرض ہے کہ یہ پکڑے جائیں اور خوب اچھی طرح قتل کئے جائیں۔کون لوگ ہیں وہ کیا رسول اللہ ﷺ کو ان کی سمجھ آئی تھی کہ نہیں یہ باتیں میں بعد میں بیان کروں گا۔اب سنئیے یہ دعویٰ کہ تمام مسلمان فقہاء متفق ہیں ایک بھی اختلاف نہیں کہ شاتم رسول گستاخی رسول کرنے والے کو لازماً قتل کیا جائے گا۔تو سنیئے حضرت امام ابو حنیفہ کا فتویٰ جن کی ولادت ۸۰ ھ کی ہے جو آنحضرت ﷺ کے قریب تر امام پیدا ہوئے تھے اور ۱۵۰ھ میں آپ نے وفات پائی۔ان کے متعلق روایت ہے قطعی طور پر ابن تیمیہ نے لکھا ہے کہا ! حضرت نعمان بن ثابت کا مسلک ہے کہ شاتم رسول مقتل نہیں ہوگا کیونکہ وہ