خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 332 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 332

خطابات طاہر جلد دوم 332 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ ۱۹۹۴ء فرماتا ہے کہ اگر اس نے جھوٹ گھڑا ہوتا تو تم اس کی باتوں میں بہت سا اختلاف دیکھتے۔پس نہ آپ کے کلام میں کوئی اختلاف ہے نہ آپ کی سنت میں کوئی اختلاف ہے، نہ آپ کا قرآن کریم کی تعلیم سے کوئی اختلاف ہے اور ہر وہ تاریخی واقعہ جس سے یہ استنباط کیا جائے کہ گویانعوذ باللہ من ذالک آنحضور ﷺ ایسے ہی حالات میں ایک جگہ ایک اور حکم جاری فرما رہے تھے اور ایک دوسری جگہ ایک اور حکم جاری فرما رہے تھے بالکل غلط اور جھوٹا الزام ہے۔آنحضور ﷺ کا کردار وہی پاک یکساں کردار ہے جس کا ظاہر و باطن ایک تھا، ظاہر بھی نور تھا اور باطن بھی نور تھا۔آپ کے کردار میں آپ کو کہیں کوئی تضاد دکھائی نہیں دے گا۔ان کے علاوہ ایک واقعہ اُس یہودیہ کے قتل کا پیش کیا جاتا ہے جس نے آنحضرت ﷺ کو زہر دینے کی کوشش کی تھی بلکہ دیا تھا۔آنحضور ﷺ کو ستی کا گوشت پسند تھا ( بکرے کا بازو ہے اس کو دستی کہا جاتا ہے ) اس عورت نے اخلاص ظاہر کیا دھوکہ بازی کے طور پر اور کہا کہ مجھے شوق ہے میں کچھ پکا کے بھیجوں اور دستی بھجوائی۔جس کے اندر نہایت ہی خوفناک زہر داخل کیا گیا آنحضور ﷺ نے تھوڑا سا چکھا اور چھوڑ دیا اور آپ کے ساتھ ایک صحابی تھے جنہوں نے جلدی میں کئی لقمے کھالئے۔آنحضرت ﷺ کو اسی وقت پتا چلا کہ یہ زہر والی دستی ہے، آپ نے تحقیق کا حکم دیا۔تحقیق ہوئی اور ثابت ہوا کہ اس یہودیہ نے آپ کو زہر دیا تھا چنانچہ آنحضرت ﷺ نے اس کو معاف فرما دیا۔یہ قطعی تاریخی حقیقت ہے جس کا کوئی انکار کرنے کی جرات نہیں کر سکتا لیکن جب وہ صحابی جو آپ کے ساتھ بیٹھے تھے اور آپ کی دعوت میں شریک ہوئے تھے ، اس زہر سے مارے گئے جو آپ کے لئے بنایا گیا تھا تو آنحضرت ﷺ نے قصاص کے طور پر پھر اس یہود یہ کو اس صحابی کے قتل کے جرم میں قتل کرنے کا حکم دیا ( ابو داؤد کتاب الدیات حدیث نمبر : ۲۹۰۹)۔اب بتائیے ! اس میں ہتک رسول کا کون سا موقع ، کون سا محل ہے، اس کا کوئی دُور سے بھی اس مضمون سے تعلق نہیں ہے۔اب سنیئے وہ حدیثیں جو آج کل کے علماء کہلانے والے اور آج کل کے بعض سیاستدان بھی جن کو علم کے میدان میں قدم رکھنے کا شوق ہے، اس مسلک کے حق میں پیش کرتے ہیں کہ اسلام ہتک رسول کرنے والے کو قطعی موت کی سزا دیتا ہے بلکہ ہر کس و ناکس کو اجازت دیتا ہے کہ جو چاہے اٹھ کے اس کو قتل کر دے۔گویا کہ سوسائٹی سے ہر جگہ سے امن اٹھ جائے ، یہ ایک بہانہ ہے جس کے