خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 319
خطابات طاہر جلد دوم 319 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ ۱۹۹۳ء پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اس خواہش کی راہ میں ڈش انٹینا حائل نہیں ہوا، کوئی دنیا کی طاقت حائل نہیں ہو سکتی۔اس خواہش کی پیاس کو اور زیادہ بھڑ کا دیا ہے اور آپ دیکھیں گے کہ انشاء اللہ تعالیٰ تمام دنیا سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے عشاق اور پروانے آئندہ سب جلسوں میں خواہ یہاں ہوں یا دنیا کی کسی اور جگہ واقع ہوں، جہاں بھی مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ ادنی غلام جائے گا، لوگ جوق در جوق ان جلسوں میں شامل ہوا کریں گے۔ڈش انٹینا والے بھی اس لذت سے فیضیاب ہوں گے، دُور بیٹھے ہوئے وہ بھی خدا تعالیٰ سے برکتیں پائیں گے مگر جو آ کر مل بیٹھنے کی برکتیں ہیں وہ اپنا ایک الگ مقام رکھتی ہیں۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جلسے کی اغراض کے بیان میں ایک یہ بھی نصیحت فرمائی تھی کہ مغربی ملکوں کو پیش نظر رکھنا ضروری ہے اور ان کی ضرورتیں پوری کرنا ایک بہت ہی اہم مقصد ہے جو اس جلسے کے مقاصد میں داخل ہے۔فرمایا۔جلسہ میں یہ بھی ضروریات میں سے ہے کہ یورپ اور امریکہ کی دینی ہمدردی کے لئے تدابیر حسنہ پیش کی جائیں۔پس دیکھیں آج خدا تعالیٰ کے فضل سے یہ جلسہ جو یورپ اور مغربی قوموں کے درمیان منعقد ہورہا ہے، اس میں بہت سے ایسے منصوبے ہیں جن کا گہرا تعلق یورپ کی اصلاح سے ہے اور وہ انشاء اللہ تعالیٰ روز بروز اور زیادہ منظم اور مربوط ہوتے چلے جائیں گے اور اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ ان کا فیض پہلے سے کئی گنا زیادہ بڑھ کر مغربی قوموں میں پھیلتا چلا جائے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ثابت شدہ امر ہے کہ یورپ اور امریکہ کے سعید لوگ اسلام کے قبول کرنے کے لئے طیار ہورہے ہیں اور اسلام کے تفرقہ مذاہب سے بہت لرزاں اور ہراساں ہیں۔( یورپ میں دو قسم کے لوگ ہیں ایک وہ جو اسلام میں تفرقہ پیدا کرنا چاہتے ہیں۔کچھ وہ سعید روحیں ہیں جو تفرقے کو دیکھ کر لرزاں اور ترساں ہیں اور ہراساں ہیں کہ یہ کیا ہورہا ہے۔) چنانچہ انہیں دنوں میں ایک انگریز کی میرے نام چٹھی آئی (یعنی مسیح موعود علیہ السلام کے نام) جس میں لکھا تھا کہ آپ تمام