خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 292
خطابات طاہر جلد دوم 292 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ ۱۹۹۳ء فضلوں کی بارش نازل فرمائی اور سراسریہ حمد ہی کے نتیجے میں ہے اورحد کو اور زیادہ لازم کرتی ہے۔آج کی حاضری سے میں بات شروع کرتا ہوں، اس سے پہلے میں نے مختلف منتظمین سے رابطے کئے ، اندازہ لگانے والوں سے پوچھا، سب نے یہی بتایا کہ آج کے دن تھوڑی حاضری کی توقع ہے۔جمعہ یہ بعضوں کا خیال تھا کہ شاید یہ شامیانہ بھر نہ سکے اور ایک بڑی وجہ یہ بیان کی گئی کہ اس دفعہ انگلستان کی حکومت۔نے پاکستان میں ویزہ دینے میں بہت ہی کنجوسی سے کام لیا ہے اور بہت تھوڑے ویزے دیئے گئے۔جبکہ پہلے سال جب یہ جلسے پر پاکستان کو اجازت دی گئی تھی تو تین ہزار افراد کو جماعتی نظام کے تابع ویزے دیئے گئے تھے اور اب بمشکل تین سو ویزے دیئے گئے ہیں۔تو خیال تھا اندازہ لگانے والوں کا کہ زیادہ تر تو حاضری پاکستان سے متوقع تھی وہاں سے بہت تھوڑے لوگ آئیں گے۔اس ضمن میں ایک یہ بات بھی بتادوں کہ حکومت انگلستان نے تین سو ویزے جو دیئے وہ احسان کیا ہے،شکوے کی جانہیں ہے۔ویزے کم دینے میں بعض ایسے ظالموں کا قصور ہے جو یہ عہد کر کے آئے کہ ہم جلسے کی خاطر آرہے ہیں اور واپس جائیں گے لیکن انہوں نے دین پر دنیا کو ترجیح دے دی اور عہد شکنی کر کے وہ یہاں ٹھہر گئے۔یہ الگ بات ہے کہ جماعت نے کوشش کر کے اور لمبا عرصہ محنت کر کے ان لوگوں کا کھوج لگایا اور ان میں سے بھاری اکثریت کو واپس جانے پر مجبور کر دیا یا ملک چھوڑنے پر مجبور کر دیا لیکن گنتی کے چند ایسے بھی تھے جنہوں نے بات نہ مانی ، ان کو نظام جماعت سے خارج کر دیا گیا اور اب ان کا جماعت احمدیہ سے ان کی موت تک کوئی تعلق نہیں ہو گا لیکن یہ ظالمانہ سودا کرنے کے نتیجے میں جو دنیا کا عارضی فائدہ ان کو پہنچا ہے وہ تو اللہ بہتر جانتا ہے کہ کب تک کیسے ان کا ساتھ دے گا؟ لیکن جو نقصان جماعت کے وقار اور نام کو انہوں نے پہنچایا ہے اس کی سزا لامتناہی معلوم ہوتی ہے۔پس وہ مخلصین ، وہ محبت کرنے والے، وہ فدائی ، وہ عاشق جو جلسے پر آکر اس کی شمولیت کی سعادت حاصل کرنا چاہتے تھے وہ محروم رہ گئے یہ ان ہی بدنصیبوں کی وجہ سے ہے اس لئے حکومت انگلستان سے شکوہ بے جا ہے۔اس کے باوجود خدا کے فضل سے جلسے کی رونق میں کوئی کمی نہیں آئی اور اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل اور احسان سے یہ ثابت کر دیا کہ رونقیں دینا میرا کام ہے، حکومت انگلستان کا کام نہیں۔میں جس کو چاہوں عزت دیتا ہوں، میں جس کو چاہوں رونق بخشتا