خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 281
خطابات طاہر جلد دوم 281 افتتاحی خطاب جلسه سالانه ۱۹۹۲ء میں صحیح راستے کی ہدایت دوں۔پس مجھ سے ہدایت طلب کرو اور کوئی نہیں ہے جو ہدایت دینے والا ہو میں تمہیں ہدایت دوں گا۔اے میرے بندو! تم سب بھو کے ہو سوائے اس کے جس کو میں کھانا کھلاؤں۔۔۔“ عجیب شان کا کلام ہے بظاہر وہ بڑی بڑی طاقتیں اور وہ دنیا کی عظیم قو میں ہیں جن کے ہاں رزق کی ریل پیل ہے اور اتنی فراوانی ہے کہ جتنا رزق ان کے ہاں روز ضائع ہوتا ہے اس پر قو میں سالوں گزارہ کر سکتی ہیں لیکن خدا کے کلام کی شان دیکھیں فرماتا ہے تم سب بھو کے ہو سوائے اس کے جس کو میں کھانا کھلاؤں۔پس خدا ہی ہے جو انہیں کھانا کھلاتا ہے اور جب وہ اس کھانے کی ناقدری کرتے ہیں تو جوسزا ان کو ملتی ہے وہ خود اس سزا کے خالق ہیں اور وہ جو بھو کے ہیں ان کی بھوک کے بھی وہی ذمہ دار ہیں کیونکہ خدا نے ربوبیت کا جو نظام جاری فرمایا ہے وہ تمام بنی نوع انسان کے لئے مشترک ہے۔وہ نہ کسی گورے کے لئے ہے نہ کسی کالے کے لئے ہے، نہ سفید کے لئے نہ سرخ کے لئے وہ خدا کے سب بندوں کے لئے ہے۔پس رزق کے سرچشموں پر جو قبضہ کر لیتے ہیں وہ اپنے حق سے زائد پر قبضہ کرتے ہیں۔خدا نے تمام بنی نوع انسان کے کھانے کے جو سامان کئے ہیں ان پر چند لوگ قابض ہو کر بیٹھ جاتے ہیں اور یہ وہ ظلم ہے جس سے آگے ان کی ہلاکت کے سامان پیدا ہوتے ہیں۔فرماتا ہے۔پس مجھ سے ہی رزق طلب کرو میں تم کو رزق دوں گا۔۔۔“ پس وہ لوگ جو اپنے آپ کو محروم جانتے ہیں ان کے لئے کتنا بڑا نجات کا گر اس میں بیان ہو گیا۔جب غریب قومیں اپنے آپ کو رزق سے محروم دیکھتی ہیں تو سوال یہ ہے کہ ان کے دل کا طبعی فوری ردعمل کیا ہوتا ہے؟ اگر وہ خدائے واحد کے پجاری ہیں اگر وہ خدا ہی کو رازق مانتی ہیں تو خدا پر ان کا رزق لازم ہے اور خدا نے اپنی ذات پر ان کا رزق فرض فرمالیا ہے لیکن وہ اس امتحان میں ناکام ہوتے ہیں وہ ان امیر قوموں کی طرف دوڑتے ہیں اور ان کے ہاتھ ان کے سامنے کشکول لے کر پہنچتے ہیں اور گریہ وزاری سے ان سے رزق طلب کرتے ہیں۔تو وہ جو بظاہر مظلوم دکھائی دیتے ہیں وہ جو بغیر رزق کے دکھائی دیتے ہیں وہ اس لئے ہیں کہ خدا سے نہیں مانگتے۔جبکہ آنحضرت ﷺ نے خدا کا صیات یہ پیغام تمام بنی نوع انسان تک پہنچا دیا کہ جب تم رزق کے بغیر اپنے آپ کو دیکھ تو بندوں کی طرف نہ