خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 279
خطابات طاہر جلد دوم بے حقیقت ہو جائیں گے۔۔279 افتتاحی خطاب جلسه سالانه ۱۹۹۲ء آنحضور یہ تو حید کے ایسے عاشق تھے کہ دنیا میں کبھی کوئی ایسا عاشق پیدا نہیں ہوا۔آپ کی اس محبت کو دیکھ کر آپ کے مخالفین اور آپ کے معاندین نے آپ کو مجنون کہا اور اس مجنون ہونے کی تشریح ان الفاظ میں کی کہ عشق محمد ربه (غزالی:۱۵۱) کہ یہ عشق کا جنونی ہے، یہ اپنے رب پر عاشق ہو گیا ہے۔وہ جو آپ کی جان کے دشمن تھے جو آپ کے پیغام کو مٹانے کے درپے تھے ، آپ کے ماننے والوں کو ایک آنکھ دیکھنا برداشت نہیں کر سکتے تھے ان کی طرف سے کتنا بڑا اعتراف حقیقت ہے۔ان میں سے ہر ایک کا دل گواہی دیتا تھا کہ اگر یہ مجنون ہے تو جنون عشق کا مارا ہوا ہے اور اسے اپنے رب سے عشق ہو چکا ہے۔یہی وہ محبت خالص ہے جس کی طرف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام آپ کو بلاتے ہیں اور اسی کا تذکرہ ہے جو پہلے پیش کردہ عبارت میں گزرا ہے۔صحابہ بیان کرتے ہیں ایک موقع پر حضرت اقدس محمد مصطفی علی سٹیج پر کھڑے ہوئے اور اللہ کی توحید اور تفرید کا ذکر شروع کیا، اس کے جلال اور جمال کے گیت گائے اور ایسا اس میں کھوئے گئے کہ جوش اور طاقت کے ساتھ سارا منبر لرزہ براندام ہو گیا اور ہم یہ خوف کرنے لگے کہ اس جوش اور قوت سے یہ منبر ٹوٹ کر پارہ پارہ ہو جائے گا اور آنحضور ﷺ کو گر کر تکلیف نہ پہنچے۔پس اس خیال سے ہم دل میں بس بس کہتے تھے کہ یا رسول اللہ آپ نے پیغام کا حق ادا کر دیا، آپ نے خدا کی تو حید اور تفرید کے گیت خوب الا پے اور بڑی شان کے ساتھ اس کا ذکر کیا لیکن یا رسول اللہ کہیں آپ کو چوٹ نہ لگ جائے کوئی تکلیف نہ پہنچے۔ایسی کیفیت تھی جو بیان کرنے والے نے اس سے بہتر الفاظ نہ پائے بیان کرنے کے کہ ہمیں ڈر تھا کہ آپ کے جوش اور آپ کی خدا کے حضور گریہ وزاری اور بے انتہا ہا تھ سے نکلے ہوئے ولولے کے نتیجے میں ایسی عظیم طاقت پیدا ہوئی تھی کہ وہ مضبوط منبر جس پر آپ کھڑے تھے ہمیں ڈر تھا کہ وہ پارہ پارہ ہوکر زمین پر جا پڑے گا۔(مسند احمد : ۸۸/۲) حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ بتایا کہ للہ تعالیٰ فرماتا ہے اے میرے بندو میں نے اپنی ذات پر ظلم حرام کر رکھا ہے اور میں نے اسے تمہارے درمیان بھی حرام قرار دیا ہے پس تم ایک دوسرے پر ظلم نہ کیا کرو۔(مسلم کتاب البر والصلہ حدیث :۴۶۷۴)