خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 249
خطابات طاہر جلد دوم 249 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ قادیان ۱۹۹۱ء میں ایسے واقعات ہوئے کہ احمدی ڈاکٹر اور طب کے احمدی طلباء نے بہت قیمتی وقت خرچ کر کے بہت محنت اٹھا کر اور جماعت سے بہت سی رقم ان کاموں کے لئے وصول کر کے طبی کیمپ لگائے۔ایسے علاقوں میں خدمت کے لئے ماہرین پہنچے جہاں طبی سہولتیں میسر نہیں تھیں اور جب بعض بد نصیب مولویوں کو اس کا علم ہوا تو انہوں نے حکومت میں جا کر رپورٹیں لکھوائیں کہ یہ لوگ بنی نوع انسان کی خدمت کر رہے ہیں ان کو روکو۔چنانچہ ان میں سے کئی ڈاکٹر کئی دن جیلوں میں قید رہے ہیں لیکن چونکہ وہ محض اللہ یہ کام کر رہے تھے انہوں نے قطعا پر واہ نہیں کی کہ جن کی خدمت کرتے ہیں اُن کا کیا رد عمل ہے اور مجھے بھی جو خط لکھے وہ شکایت کے رنگ میں نہیں بلکہ اپنے لطف کے اظہار کے طور پر لکھے۔کہتے ہیں کہ ہم جیلوں میں بڑا ہی مزا اُٹھا رہے تھے۔اُس وقت ہمارا ایمان سچا ثابت ہوا۔اُس وقت ہمیں معلوم ہوا کہ خدا کی خاطر کام کرنے کا مزا دنیا کی کوئی قوم چھین نہیں سکتی۔جس کی خاطر ہم نے کام کیا وہ اس تکلیف سے اور بھی زیادہ راضی ہو گیا۔پس بجائے اس کے کہ ہمیں ان نیک کاموں میں نامراد کر دیتے ہمارے نیک کاموں کی قبولیت کو انہوں نے اور بھی زیادہ بڑھا دیا لیکن ایسے بدنصیب واقعات مختلف ملکوں کی تاریخ میں گاہے بگاہے ہوتے رہتے ہیں اور کسی ایک ملک کی تاریخ کا حصہ نہیں۔مخالفت ہمیشہ ترقی کے رد عمل کے طور پر ظاہر ہوا کرتی ہے۔یہ مخالفت پاکستان کی جماعتوں کی خدمت کی گواہ بن گئی ہے اس بات کی گواہ بن گئی ہے کہ پاکستان کی جماعت کی نشو ونما سے غیر کو خطرہ محسوس ہورہا ہے اگر ہندوستان یا دیگر ممالک میں اُسی شان کے ساتھ جماعتیں آگے بڑھیں جیسا کہ اب بہت سی جگہ بڑھ رہی ہیں تو بعید نہیں کہ بعض دوسری جگہوں میں بھی اسی قسم کا تکلیف دہ رد عمل ظاہر ہو لیکن ضروری بھی نہیں کہ وہ ضرور ظاہر ہو۔اس لئے ہمیں دعا کرتے رہنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ بنی نوع انسان کو عقل عطا فرمائے۔حلم عطا فرمائے ، سعادت عطا فرمائے جوان کے لئے خیر لے کر حاضر ہوتے ہیں، اس خیر کا جواب وہ شر سے نہ دیں اور ہندوستان میں بھی جب جماعت احمد یہ کثرت سے پھیلنے لگے اور مجھے یقین ہے کہ وہ دن دور نہیں جب ایسا ضرور ہوگا تو ہمیں دعا کرنی چاہئے کہ جن کی بھلائی کی خاطر ہم یہ کام کریں گے وہ اگر اُس بھلائی کا شکر ادا نہ بھی کر سکیں تو ناشکری کی صورت میں اور تکلیف کی صورت میں اُس کا اظہار نہ کریں۔اللہ تعالیٰ ہمیشہ آپ کو امن عطا فرمائے۔آپ کو امن میں رکھے اور اُس کی رحمت کا سایہ آپ پر دراز ہو۔خدمت دین کے کاموں