خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 248
خطابات طاہر جلد دوم 248 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ قادیان ۱۹۹۱ء کہ ہماری نمائشوں پر آنے والے بے اختیار یہ گواہی دیں کہ خدا کی قسم یہ جماعت آج یا کل یا سو سال کی جماعت نہیں یہ چودہ سو سال پہلے کی وہ جماعت ہے جسے حضرت اقدس محمد مصطفی امیہ نے خود اپنے ہاتھوں سے پیدا کیا تھا اور خود اپنے ہاتھوں سے اس کی نشو ونما کی تھی۔پس وہ گواہیاں ہیں جو وَأَخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمُ (الجمع : ٤) کی گواہی کی تصدیق کریں گی اور میں یقین رکھتا ہوں کہ وہ وقت دور نہیں کہ جبکہ تمام دنیا سے ایسی گواہیاں از خود دلوں سے اٹھنی شروع ہو جائیں گی کہ بیوہ جماعت ہے جو آخرین میں ظاہر ہوئی لیکن پہلوں سے مل گئی اس کی تاریخ حضرت محمد مے کے صلى الله زمانے سے شروع ہوتی ہے اور آپ کے زمانے تک جاری رہے گی یعنی کبھی ختم نہیں ہوگی۔جماعت احمدیہ نے جو مختلف خدمت کے کام کئے ہیں یہ جماعت احمدیہ کی سرشت میں داخل ہے۔ہمارا مذ ہب یہ ہے کہ وہ مذہبی جماعتیں جو اللہ سے سچی محبت رکھتی ہیں، اللہ کی مخلوق سے بھی سچی محبت رکھتی ہیں، ایک دوسرے کی صداقت کو جانچنے کا پیمانہ ہے۔اگر کوئی یہ دعوی کرے کہ میں خدا کا عاشق ہوں اور اپنے رب سے اور اس کے جاری کردہ مذہب سے بے حد محبت رکھتا ہوں لیکن خدا کی مخلوق سے نفرت کرتا ہوں یا خدا کے نام پر دوسروں کو ظلم کی تلقین کرتا ہوں تو میرے نزدیک اس کا مذہب جھوٹا ہے یا مذہب سچا تھا تو وہ خود جھوٹا ہے کیونکہ بار ہا میں اس بات کا اظہار کر چکا ہوں کہ میری عقل میں یہ بات داخل ہی نہیں ہو سکتی کہ خالق سے تو محبت کی جائے اور مخلوق سے نفرت کی جائے۔یہ ایسے ہی ہے کہ جیسے کسی مصوّر سے تو پیار ہولیکن اس کی بنائی ہوئی تصویروں اور نقوش سے نفرت ہو۔یہ ایسی ہی بات ہے جیسے کسی Musician سے کسی موسیقی کے ماہر سے تو پیار ہو لیکن اس کی موسیقی کی ہر تخلیق سے نفرت ہو۔یہ ناممکن ہے، یہ عقل کے خلاف بات ہے۔پس جماعت احمدیہ اللہ سے اپنی محبت کے دعوے میں کچی ہے اسی لئے جماعت احمد یہ دنیا کے ہر ملک میں خدمت کے کاموں میں ہمیشہ مصروف رہتی ہے خواہ کوئی خدمت کو قبول کرے اور سرا ہے یا نہ سرا ہے، اس سے قطع نظر ہماری نظر اپنے خالق و مالک پر رہتی ہے۔ہم اُس کی رضا کی خاطر اس کے بندوں کی تکلیفیں دور کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔یہاں تک کہ بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ خدا کی خاطر جن کی تکلیفیں دور کرنے کے لئے ہم کوشش کرتے ہیں ان میں سے بعض جاہل اس کی سزا کے طور پر تکلیف دور کرنے والے کو تکلیفیں پہنچاتے ہیں۔چنانچہ بدنصیبی سے یہاں ہندوستان کے ہمسایہ ملک