خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 243
خطابات طاہر جلد دوم 243 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ قادیان ۱۹۹۱ء خیال علماء سے اس فتویٰ پر مہر میں مثبت کرائیں اور وہ اور ان کے ہم مشرب علماء بڑے ناز اور خوشی سے اس بات کے مدعی ہوئے کہ گویا اب انہوں نے اس الہی سلسلہ کی ترقی میں بڑی بڑی روکیں ڈال دی ہیں تو اس سالانہ جلسہ میں بجائے 75 کے 327 احباب شامل جلسہ ہوئے اور ایسے صاحب بھی تشریف لائے جنہوں نے تو بہ کر کے بیعت کی۔اب سوچنا چاہئے کہ کیا یہ خدا تعالیٰ کی عظیم الشان قدرتوں کا ایک نشان نہیں کہ بٹالوی صاحب اور ان کے ہم خیال علماء کی کوششوں کا الٹا نتیجہ نکالا اور وہ سب کوششیں برباد گئیں۔کیا یہ خدا تعالیٰ کا فعل نہیں کہ میاں بٹالوی کے پنجاب اور ہندوستان میں پھرتے پھرتے پاؤں بھی گھس گئے لیکن انجام کا رخدا تعالیٰ نے اُن کو دکھلا دیا کہ کیسے اُس کے ارادے انسان کے ارادوں پر غالب آجاتے ہیں آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد نمبر ۵ صفحه ۶۳۰،۶۲۹ ) اس سلسلہ میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ سے ایک دفعہ ایک روایت سنی جو غالبا کسی تقریر کے دوران آپ نے بیان فرمائی کہ قادیان سے ایک صاحب کو بٹالے ڈاک لینے کے لئے بھجوایا جاتا تھا۔جب گاڑی آتی تھی تو وہ وہاں سے ڈاک لے کر واپس آیا کرتے تھے یا کوئی ضروری پیغام آئے ہوئے ہوں یا مہمان آئے ہوں تو ان کی رہنمائی کرتے تھے وہ یہ دیکھا کرتے تھے کہ ہر روز جب گاڑی کے پہنچنے کا وقت آتا تھا تو مولوی محمد حسین صاحب بھی لوگوں کو بہکانے کے لئے اور قادیان جانے سے روکنے کے لئے وہاں پہنچ جایا کرتے تھے۔چنانچہ ایک دفعہ ان صاحب کو بھی مولوی صاحب نے پکڑ لیا۔وہ سمجھے کہ یہ مسافر ہے اور انہوں نے کہا کہ میاں قادیان نہ جاؤ۔اس نے کہا مولوی صاحب! میں بھی یہاں آتا ہوں آپ بھی یہاں آتے ہیں۔میں نے تو یہ دیکھا ہے کہ آپ کی جوتیاں گھس گئیں لوگوں کو روکتے روکتے اور لوگوں کی جوتیاں گھس گئیں مسیح موعود تک پہنچتے پہنچتے۔قادیان آتے ہوئے مجھے یہ خیال آیا کہ بٹالہ پاس ہی ہے۔دور دور سے زمین کے کناروں سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے شیدائی یا تـون مـن كـل فج عميق و ياتيک من كل فج عمیق۔( تذکرہ صفحہ: ۴۶۵) کا مظہر بنے ہوئے جوق در جوق بھچے چلے آرہے ہیں۔ہم