خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 212 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 212

خطابات طاہر جلد دوم 212 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ ۱۹۹۱ء جس کا مطلب یہ ہے کہ ہر وقت خدا تعالیٰ کی طرف نظر رکھتے ہوئے آگے بڑھتے رہو۔جب ٹھوکر کھاؤ تو پہلا خیال دل میں شرمندگی کا احساس بن کے پیدا ہو اور انسان خدا کی طرف دیکھے کہ وہ مجھے کیسے دیکھ رہا ہو گا۔جیسے ایک بچہ جب ایک غلطی کرتا ہے تو بسا اوقات اپنے ماں باپ کی طرف ترچھی نظر سے دیکھتا ہے اور یہ معلوم کرنا چاہتا ہے کہ اس کا کیسا اثر میرے ماں باپ پر پڑا ہے اور پھر غلطیوں کے وقت ان سے چھپنے کی کوشش کرتا ہے۔تقویٰ کا مضمون چھپنے کے ساتھ بھی گہرا تعلق رکھتا ہے۔چنانچہ قرآن کریم نے آدم کی کہانی میں اس مضمون کو اس خوبصورت انداز سے پیش فرمایا کہ جب آدم سے گناہ سرزد ہوا تو وہ چھپتا پھرتا تھا، وہ جنت کے پتوں سے اپنے بدن کو ڈھانپنے کی کوشش کر رہا تھا۔یہ درحقیقت وہ پہلا قدم بیان فرمایا گیا ہے جس کے نتیجے میں انسان تقوی میں ترقی کرتا ہے اگر دیا اٹھ جائے تو کچھ بھی باقی نہیں رہتا اور سب سے زیادہ ضروری تقویٰ کی راہوں پہ قدم مارنے کے لئے حیا ہے اور یہ حیا جب خدا کے تعلق میں بیان کی جاتی ہے تو ہر وقت انسان شرمندگی کی حالت میں زندگی بسر کرتا ہوا دکھائی دیتا ہے کیونکہ ماں باپ کی آنکھ سے تو بچہ چھپ جاتا ہے، اپنے پیاروں کی آنکھ سے بھی نظر چرا کر ایسی غلطیاں کر جاتا ہے کہ اسے شرمندہ نہ ہونا پڑے۔ہم میں سے اکثر انسانوں کی زندگیاں اس طرح کٹتی ہیں کہ اگر ان کے اعمال بنی نوع انسان کے سامنے پیش کر دیئے جائیں تو بہت سے انسان شرم سے غرق ہو جائیں اور اگر خود کشی ان کے لئے جائز ہو تو وہ خود کشی کی موت کو زیادہ قبول کریں۔ہر روز ہماری زندگی پہ ایسی حالتیں آتی ہیں کہ جب ہم انسان کے رشتے سے شرمندگی کا خوف رکھتے ہیں،شرمندہ نہیں ہوتے۔یہ دوالگ الگ چیزیں ہیں ایک شرمندگی کا خوف ہے اور وہ خوف ان لوگوں کو دامنگیر رہتا ہے جو کچھ حیا ضرور رکھتے ہیں لیکن انسان کے رشتے کے ساتھ ، وہ دیکھتے ہیں کہ میرا یہ فعل اگر کل کو فلاں کی نظر میں آجائے گا تو مجھے کیسی شرمندگی اٹھانی پڑے گی لیکن وہاں اگر کا سلسلہ جاری ہے جولا متناہی ہے، اگر میں پکڑا جاؤں، اگر یہ ہو جائے ،اگر وہ ہو جائے تو پھر میں شرمندہ ہوں گا۔مگر وہ خدائے اعلیٰ عز وجل، وہ خدا جس کی نظر غیب پر اس طرح محیط ہے کہ وہ غیب ہوتے ہوئے بھی، اس سے کچھ بھی غیب میں نہیں۔اس کا غیب میں ہونا ایک اور بھی مضمون رکھتا ہے کہ ہر چیز جو غیب میں کی جاتی ہے اس سے وہ باخبر ہے کیونکہ انسان