خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 201
خطابات طاہر جلد دوم 201 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ برطانیہ ۱۹۹۰ء غروب ہو چکا ہے، آج اسی قوم کے سردار اپنی قوم کے متعلق یہ بیان دے رہے ہیں کہ ہماری قوم کا سورج غروب ہوتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔پروفیسر غفور احمد صاحب جماعت اسلامی کے سر براہ لکھتے ہیں : مظلوم عورتوں کا قتل ہماری تاریخ کا سیاہ ترین باب ہے۔“ جب مردان میں ہماری احمدی خاتون دردانہ شہید کی گئیں، اس وقت تو کسی کو خیال نہیں آیا کہ مظلوم عورتوں کا قتل ہماری تاریخ کا سب سے سیاہ باب ہے۔یہ وہی مظالم ہیں جن کا جواب آسمان سے نازل ہو رہا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ شعر پوری طرح اس صورتحال پر صادق آ رہا ہے قرض ہے واپس ملے گا تجھ کو یہ سارا ادھار (درشتین صفحه ۱۵۱) جتنے تم مظالم کرتے چلے جارہے ہو، کرتے چلے جاؤ مگر یاد رکھنا کہ میرا خدا ان مظالم میں سے کسی کو نہیں بھولے گا۔قرض ہے واپس ملے گا تجھ کو یہ سارا ادھار نواز شریف صاحب لکھتے ہیں : کراچی اور حیدرآباد کے واقعات پر میرا دل خون کے آنسو رو رہا ہے۔“ پنجاب کے وزیر اعلیٰ ننکانہ صاحب کے حالات پر جس دل نے خون کے آنسو نہیں بہائے، چک سکندر کی سفا کا نہ داستانوں نے جس دل کو نرم نہیں کیا ، آخر خدا کی تقدیر نے اور طرح سے اس دل سے انتقام لیا، اور وہ دُور دُور ہوتے ہوئے مظالم پر نظر ڈال کر خون کے آنسو بہانے لگا ہے۔گجرات کے چوہدری شجاعت حسین صاحب، جن کے ضلع میں سب سے زیادہ احمدیت پر مظالم توڑے گئے۔وہ لکھتے ہیں : ملک جل رہا ہے ہم آئین بچانے کی باتیں کر رہے ہیں۔“ جس دن چک سکندر جلایا گیا تھا اس دن ملک جل چکا تھا، اس دن تم نے اپنے ہاتھوں سے اس ملک کو جلانے کے سامان پیدا کر دیئے تھے۔کیوں تمہاری آنکھیں اس وقت بند رہیں؟ کیوں تمہارے دلوں نے اس ظلم کی آنچ کو محسوس نہیں کیا؟ اب بیٹھے رہو اور اپنے کردار کے پھل