خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 197
خطابات طاہر جلد دوم 197 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ برطانیہ ۱۹۹۰ء چک میں ایک جلسہ ہورہا ہے، تمام گاؤں شامل ہے،خلیفہ طاہر احمد تقریر کر رہے ہیں۔( یعنی وہ احمدی نہیں ہے، نہ اس نے مجھے کبھی دیکھا لیکن خواب میں اسے یہ بتایا گیا کہ خلیفہ طاہر احمد تقریر کر رہے ہیں۔ایک احمدی ان کے پیچھے کھڑا ہے، احمدی احباب اور دوسرے لوگ اکٹھے بیٹھے ہیں اتنے میں سورج نزدیک آ گیا ،سورج کی تپش سے لوگ سڑنے لگے، (یعنی جلنے کے معنوں میں سڑنے کا لفظ استعمال کیا ہے۔تو انہوں نے اٹھ کر دوڑ نا شروع کر دیا اور دوڑتے ہوئے کہتے جا رہے ہیں کہ ہم سڑ گئے ، مر گئے۔ادھر چک کے مکانوں کو بھی آگ لگ گئی، گاؤں کے سب آدمی اور گھر جل گئے اور آدمی مر گئے لیکن جلسہ میں احمدی امن اور سکون سے بیٹھے جلسہ سنتے رہے، ان کو اس خوفناک صورتحال کا پتا بھی نہیں۔اس پر میں نے اپنے ابا کو کہا ( یعنی دوسرے دن اٹھنے کے بعد ) اتبا کو کہا کہ لوگ کہتے ہیں کہ احمدی جھوٹے ہیں ، یہ سارے کے سارے بچ گئے ہیں یہ تو جھوٹے نہیں، یہ تو سچے ہیں، اس لئے بچ گئے ہیں۔“ ( معاف کرنا ، یہ خواب ہی کی بات ہے، اٹھنے کے بعد نہیں آگے وضاحت ہوگئی ہے۔) خواب ہی میں یہ اپنے ابا کو کہتے ہیں کہ یہ لوگ سچے ہیں، دیکھیں سارے احمدی بچ گئے ہیں اور یہ جھوٹے کیسے ہو سکتے ہیں، بہتر ہے کہ ہم بھی ان کے ساتھ شامل ہو جائیں۔اس کے بعد ان کی آنکھ کھل جاتی ہے۔لکھنے والے لکھتے ہیں کہ: " دو دن کے بعد یہ لڑکا آیا، میں اسے ایک احمدی کے گھر لے گیا، وہاں چاروں خلفاء کی تصاویر تھیں۔اس نے حضور کی فوٹو پر انگلی رکھ کر کہا کہ یہی تقریر کر رہے تھے۔اس نشان کی وجہ سے لوگوں میں بہت تبدیلی پیدا ہوگئی ہے۔“ یعنی اس کو نام بھی بتایا گیا اور ساتھ شکل بھی وہی دکھائی گئی اور جب اس نے دیکھیں تصویریں تو فوراً پہچان گیا، اب خدا کرے کہ اس کو اور اس کے والدین اور سارے خاندان کو احمدیت کی توفیق ملے۔عموماً گاؤں میں تو کہتے ہیں کہ پاک تبدیلی پیدا ہورہی ہے۔جوں جوں دشمن جماعت کو تکلیفیں دیتا چلا جارہا ہے، جماعت اللہ تعالیٰ کے فضل سے پہلے