خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 172
خطابات طاہر جلد دوم 172 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ ۱۹۸۹ء کر رہے ہیں ان کو پکڑو اور مارو۔دومنٹ کے اندر اندر موٹر سائیکل کھڑا کرتے ہی چالیس پچاس غنڈے جمع ہو گئے اور آتے ہی انہوں نے ہمیں مارنا شروع کر دیا۔ان کی باری ہی نہیں آ رہی تھی کہ ہمیں کہاں کہاں ماریں، مارتے مارتے اسی طرح ٹانگے پر گھسیٹ کر سوار کیا اور تھانے لے گئے جہاں ہمیں حوالات میں بند کر دیا گیا لیکن یہ عجیب واقعہ ہم نے دیکھا ہے کہ جب ہم حوالات میں پہنچے تو دوسرے مجرم جو حوالات میں قید تھے ان کو پتہ لگا کہ ہم کیوں قید کئے گئے ہیں کیا ہم سے سلوک ہوا ہے تو بے اختیار ہمارے زخم چومنے لگے اور یہ کہنے لگے کہ آپ بڑے خوش نصیب لوگ ہیں جو اپنے دین کی حفاظت میں یہ تکلیفیں اٹھا ر ہے ہیں۔اب اس تفصیل کو بیان کرنے کا وقت ہی نہیں ہے چند دن کے اندر اندر اتنے واقعات روزمرہ کی تکلیف کے اکٹھے ہو جاتے ہیں کہ جو بعض دفعہ ساری زندگی کو دکھوں سے بھر دینے کے لئے کافی ہوتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ اپنے فضل کے ساتھ اتنی رحمتیں بھی ساتھ نازل فرمارہا ہے، جماعت کو اتنی ترقیات بھی عطافرمارہا ہے کہ وہ زخم ساتھ ساتھ ڈھلتے جاتے ہیں اگر چہ ان کی کسک تو باقی ہے وہ مٹ نہیں سکتی لیکن خدا کے فضل سہارے ضرور دیتے ہیں اور اس قوت کے ساتھ دلوں کو تھامتے ہیں کہ اس کے نتیجے میں خدا تعالیٰ اپنے فرائض کی ادائیگی کو آسان فرما دیتا ہے۔یہ باتیں میں کل کی تقریر میں اور پرسوں کی تقریر میں کچھ حصہ آپ کے سامنے پیش کروں گا۔اس وقت میں آپ کو آخر پر دعا سے پہلے یہ بتانا چاہتا ہوں کہ جیسا کہ میں نے کہا تھا ہمارا سہارا صرف خدا کی ذات ہے دنیا میں ہم ان باتوں کی تشہیر جس حد تک ممکن ہے کر تو رہے ہیں لیکن یہ دنیا سیاست کی دنیا ہے۔مذہب کی دنیا نہیں اور مذہب میں جو بھیا نک واقعات ہو رہے ہیں ان کے پیچھے بھی سیاست ہی ذمے دار ہے اور یہ سب سیاسی کھیل ہیں ان کا حقیقت میں مذہب سے کوئی بھی تعلق نہیں۔اگر پاکستان میں اسلام کی سچی ہمدردی ہوتی تو جس قسم کے جرائم وہاں کثرت سے بڑھتے اور پھیلتے چلے جارہے ہیں کسی ملاں کے دل میں ان کا بھی خیال آتا اور وہ خدا کا خوف کرتا کہ اسلام تو دراصل کردار کا نام ہے۔جس ملک سے انسانیت اٹھ گئی ہو ، جس ملک سے بچوں کی حرمت اُٹھ گئی ہو، جس ملک سے عورتوں کی حرمت اُٹھ گئی ہو، جہاں روز مرہ بچے اغوا ہور ہے ہوں اور لاکھوں کی قیمت کے مطالبے ہوں کہ ہم تمہارے بچے کو ذبح کر دیں گے اگر تم نے یہ قیمت ادا نہ کی ، جہاں غریب لوگ