خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 166 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 166

خطابات طاہر جلد دوم 166 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ ۱۹۸۹ء کہ کوئی کتا جو حضرت محمد مصطفی ﷺ کے گھر تربیت پاتاوہ کسی پر کسی قسم کا ناجائز حملہ کرنا تو در کنار بھونکتا بھی نہیں اس لئے یہ شخص اس معاملے میں بہت بڑی زیادتی کر گیا ہے۔گجرات سے ایک احمدی ڈاکٹر لکھتے ہیں کہ میرا بیٹا جشن تشکر کے موقع پر لاہور میں غرباء کو کھانا تقسیم کر رہا تھا مخالفین نے اس کو گالیاں دیں، پولیس کے ساتھ مل کر گھر کا گھراؤ کیا اور پھر اس کو قید کر کے جیل پہنچایا گیا آج بڑی مشکل کے ساتھ ۱۲ رمئی کو وہ ضمانت پر رہا ہوکر آیا ہے۔جہاں تک احمدیوں کی ترقیات کا تعلق ہے ہزار ہا احمدی ایسے ہیں جن کی محکمانہ ترقیاں روک لی گئی ہیں الا ماشاء اللہ جہاں کہیں کوئی بہت غیر معمولی شریف النفس ہی نہیں بلکہ بہادر افسر ہو وہ احمدیوں کی ترقی میں روک نہیں بنتا اور ایسی بہت سی مثالیں ہیں لیکن بالعموم جو واقعہ گزررہا ہے وہ یہ ہے کہ اکثر احمدی اپنی جائز ترقیات سے محروم کر دیئے گئے ہیں۔اس میں ایک وجہ تو احمدیت کی مخالفت ہی ہے لیکن میں سمجھتا ہوں کہ ایک اور وجہ قوم کی بددیانتی ہے۔پہلے سے بھی ایسے واقعات سننے میں آتے رہے ہیں کہ جہاں دفتر کا ماحول بددیانت ہے وہاں ایک احمدی کی دیانت ان کو بہت تکلیف دیتی ہے۔اس وقت غالبا ان کے پاس کوئی بہانہ نہیں تھا ایسے راہ کے پتھر کو راہ سے ہٹانے کا لیکن اب چونکہ جماعت احمد یہ کی مخالفت حکومت کے لحاظ سے ایک تسلیم شدہ چیز ہے اور ہر شخص کو حق ہے جو چاہے جس پر چاہے گند اچھالے، جس کو چاہے پتھر مارے اس لئے اب یہ احمدیت کی مخالفت دراصل ایک بہانہ بن گئی ہے ان لوگوں کیلئے اور ملک میں بڑھتی ہوئی بد دیانتی ہے جس کے نتیجے میں دیانتدار احمدی افسران کی آنکھوں میں کھٹکتے ہیں اور ان کی ترقیاں روکی جاتی ہیں اور بہت سوں کو احمدیت کا الزام لگا کر با قاعدہ فارغ بھی کیا گیا ہے۔ایسی چٹھیاں دفتری چٹھیوں کی نقول میرے پاس موجود ہیں جس میں واضح طور پر لکھا گیا ہے کہ چونکہ تم احمدی ہو اس لئے تمہیں اس ملازمت سے فارغ کیا جاتا ہے اور جب اس کے خلاف احتجاج کئے گئے تو کوئی اس احتجاج کی آواز کی پذیرائی نہیں ہوئی۔حد یہ ہے کہ ایک ائیر فورس کے محکمے میں ایک احمدی افسر کو با قاعدہ یہ چٹھی لکھ کر ملازمت سے فارغ کر دیا گیا کہ تم احمدی ہو تمہاری ہمارے پاس کوئی جگہ نہیں۔جب اس نے اپیل کی تو وہ اپیل یہ لکھ کر واپس کر دی گئی کہ تمہاری اپیل سننے کا بھی کوئی جواز نہیں ہے تمہیں اس کا کوئی حق نہیں۔اس عرصے میں حکومت تبدیل ہوئی تو اب اس نے ایک اپیل پرائم منسر کو بھیجی ہے اللہ بہتر جانتا ہے کہ اب اس اپیل کا کیا حشر ہوتا ہے مگر اس سے