خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 141
خطابات طاہر جلد دوم 141 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ ۲۲ جولائی ۱۹۸۸ء 10 جمعۃ المبارک جون کے مہینے میں دیا گیا لیکن اس مباحلے کی بنیادیں اس سے پہلے دو خطبوں میں قائم کی گئیں یا استوار کی گئیں بلکہ اس سے بھی پہلے رمضان المبارک کے آخری عشرے میں سورہ آل عمران کا درس دیتے ہوئے میں نے اس مباھلے کے ارادے کا ذکر کیا اور تفصیل سے اس پر روشنی بھی ڈالی لیکن جماعت کو یہ ہدایت دی کہ اس کے نتیجے میں خود لوگوں کو چیلنج دینے کے مجاز نہیں ہیں۔میں مناسب وقت میں ازخود ساری جماعت کے سامنے خطبات میں اس موضوع پر روشنی ڈالوں گا۔بہر حال، ارجون کا جمعہ ایک تاریخی دن ہے جماعت کی تاریخ میں کہ اس دن با قاعدہ ایک چیلنج دیا گیا جسے چھپوا کر بعد میں مشتہر بھی کیا گیا اور اخبارات میں بھی پاکستان اور پاکستان کے باہر اس کی خبریں شائع ہوئیں۔عین ایک مہینے کے بعد 10 جولائی کو وہ شخص پاکستان پہنچ گیا جس کے قتل کا مجھ پر بحیثیت سر براہ جماعت الزام لگایا جاتا تھا اور ساری جماعت کو اس پر متہم کیا جاتا تھا اور کئی قسم کے مظالم کا نشانہ بھی بنایا گیا۔وہ کونسے حالات ہیں جن میں وہ اچانک ظاہر ہوا اور کس طرح خدا کی تقدیر اسے گھیر کے لائی۔اس میں ایسے بہت سے راز ہیں جو مخفی ہیں لیکن جوں جوں اس سے پردہ اٹھے گا آپ یقین کریں کہ اور بھی زیادہ دشمن کی رسوائی کے سامان مہیا ہوتے رہیں گے جو حالات اس وقت سامنے ہیں ان کو بیان کرنے سے پہلے میں آپ کو یاد دہانی کے طور پر اسلم قریشی صاحب کے متعلق کچھ باتیں بتا تا ہوں جو اخبارات کے حوالوں سے پیش کروں گا تا کہ وہ احمدی احباب خصوصاً وہ احمدی احباب جو بیرون پاکستان سے تعلق رکھتے ہیں دنیا کے دیگر ممالک سے اور اس مضمون سے آگاہ نہیں ہیں وہ اچھی طرح واقف ہو جائیں کہ ہم کیا بات کر رہے ہیں، اچھی طرح ان کو علم ہو جائے کہ اس مباھلے کی اہمیت کیا ہے اور اس کا پس منظر کیا ہے۔1983ء کی بات ہے 20 فروری کو میں کراچی کے سفر سے ربوہ پہنچا تو مجھے ایک عزیز نے کہا کہ آپ کو پتا ہے کہ ایک شخص اسلم قریشی غائب ہے اور اس کے غائب ہونے پر آپ پر قتل کا الزام لگایا جا رہا ہے۔میں نے کہا میں تو یہ جانتا ہی نہیں کہ اسلم قریشی ہے کون؟ انہوں نے کہا کہ آپ کو نہیں پتا کہ یہ وہی شخص ہے جس نے صاحبزادہ مرزا مظفر احمد صاحب پر قاتلانہ حملہ کیا تھا۔اللہ تعالیٰ نے ان کو بچالیا لیکن بڑی کھلی کھلی قتل عمد کی کوشش تھی اور ایسے مقام پر چھرا گھونپا گیا جہاں دراصل گردوں پر حملہ کرنا مقصود تھا اور اگر گردہ اس وار سے کٹ جاتا تو پھر زندہ رہنے کا بظاہر کوئی امکان نہیں تھا لیکن اللہ