خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 139 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 139

خطابات طاہر جلد دوم 139 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ ۲۲؍ جولائی ۱۹۸۸ء مباھلہ کے نتیجہ میں ظاہر ہونے والے عظیم الشان نشانات کا تذکرہ، اسلم قریشی کی بازیابی اور مخالفین پر مباہلہ کی پہلی مار (افتتاحی خطاب جلسه سالانه فرموده ۲۲ / جولائی ۱۹۸۸ء بمقام اسلام آباد لفورڈ برطانیہ ) افتتاحی خطاب سے قبل حضور نے مکرم بکر عبید صاحب کا تعارف کرواتے ہوئے فرمایا:۔تنزانیہ کے ایک بہت ہر دل عزیز سیاسی راہنما جو بہت چھوٹی عمر میں ترقی کرتے ہوئے وہاں کی حکومت میں بہت بلند مناصب پر فائز ہوئے اور افسوس ہے اُس قوم کی بدقسمتی ہے کہ چھوٹی عمر میں ہی ایک سازش کے نتیجے میں ان کو زہر دے دیا گیا اور وہ بہت چھوٹی عمر میں وفات پاگئے ساری قوم آج تک ان کو یاد کرتی ہے اور ان کی کمی کو محسوس کرتی ہے۔وہ ایک بہت مخلص احمدی تھے اور بہت عاجز، منکسر مزاج احمدی تھے۔ان کے صاحبزادے بکر عبید نے زندگی وقف کی ہوئی ہے اور آج کل جامعہ احمد یہ ربوہ میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔انہوں نے ایک دفعہ مجھے ایک کیسٹ بھجوائی۔حضرت مسیح موعود کی اردو نظمیں اس میں پڑھی ہوئی تھیں۔ایک افریقن کی زبان سے ایسی شستہ اردو میں اس طرح اپنا دل ڈال کر حضرت مسیح موعود کا کلام سنا تو میرے دل پر بڑا گہرا اثر ہوا۔چنانچہ آج میں نے ان سے کہا ہوا ہے کیونکہ وہ تشریف لائے ہوئے ہیں کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے کلام سے وہ نظم پڑھ کے سنائیں چنانچہ حضور کے ارشاد پر مکرم بکر عبید صاحب نے حسب ذیل نظم پڑھ کر سنائی :۔خدا کے پاک لوگوں کو خدا سے نصرت آتی ہے۔(در نمین:۳)