خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 106
خطابات طاہر جلد دوم 106 افتتاحی خطاب جلسه سالانه ۱۹۸۶ء خلاف نکالیں لیکن ایسا نہیں کیا اس لئے بالکل جھوٹا اور بے بنیاد پروپیگنڈا ہے۔ہاں یہ درست ہے کہ جماعت احمدیہ کو بدنام کرنے کے لئے حکومت پاکستان نے کروڑوں روپیہ خرچ کر کے اپنے سفارت خانوں سے کام لے کر تمام دنیا میں انتہائی ظالمانہ، جھوٹا اور بے بنیاد پروپیگنڈا کیا۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو گالیاں دی گئیں، جھوٹے الزام لگائے گئے ، وہ عقائد ہماری طرف منسوب کئے گئے جو ہمارے خواب وخیال کے عقائد بھی نہیں۔ہمیں اسلام کا دشمن قرار دیا گیا ، ہمیں وطن کا دشمن قرار دیا گیا، ہمیں تخریب کار قرار دیا گیا۔غرضیکہ جس حد تک بھی ایک حکومت کی طاقت میں ہو اس حد تک حکومت پاکستان نے جماعت احمدیہ کے خلاف دنیا کے کونے کونے میں پروپیگنڈا ضرور کیا ہے۔لیکن اس کا جواب دینے کی ہمیں اس لئے ضرورت نہیں کہ خدا کے فرشتے اس کا جواب دے رہے ہیں اور اس سارے پرو پیگنڈے کا بالکل برعکس نتیجہ ظاہر ہو رہا ہے۔آج جماعت احمد یہ دنیا میں اُس سے بہت زیادہ مرغوب اور محبوب ہو چکی ہے جتنی دو سال پہلے تھی ، آج جماعت احمدیہ اُس سے سینکڑوں گنا زیادہ معروف اور نیک نام ہو چکی ہے جتنی دو سال پہلے تھی۔دنیا کا ایک ملک بھی ایسا نہیں رہا جہاں جماعت احمدیہ کے حق میں آواز نہیں اٹھائی گئی، جہاں کے دانشوروں نے حکومت پاکستان سے اس ظالمانہ رویے کے خلاف احتجاج نہیں کیا اور اُن کے پرو پیگنڈے سے متاثر ہونے کی بجائے اور بھی زیادہ جماعت احمدیہ کے قریب آئے اور محبت اور احسان کی نظر سے جماعت احمدیہ کو دیکھنے لگے۔بکثرت ایسے ممالک ہیں جہاں اس پروپیگنڈے کے بعد بڑے واشگاف الفاظ میں حکومت کے سر براہوں نے بھی اور دیگر صاحب اثر لوگوں نے بھی جماعت کو خراج تحسین پیش کیا اور اُن باتوں کو جھٹلا دیا جو حکومت پاکستان ہمارے خلاف پروپیگنڈے کے طور پر مشہور کر رہی تھی۔چند نمونے میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں، افریقہ کے ممالک کی طرف خصوصیت کے ساتھ اس دور میں پاکستان کی آمرانہ حکومت نے توجہ دی۔روپیہ کہاں سے آیا یہ اللہ بہتر جانتا ہے مگر مانگا ہوا روپیہ تھا اور بے دھڑک افریقن ممالک کو وہ روپیہ پیش کیا گیا اور یہ کہا گیا کہ تم اگر جماعت احمدیہ کے خلاف یہاں منظم کام کرو تو ہم اس سلسلے میں تمہیں اور بھی بہت سا روپیہ دینے کے لئے تیار ہیں۔ان ممالک نے نہ صرف یہ کہ اس کوشش کو رد کر دیا بلکہ ہمیں مطلع کیا اور بتایا کہ اس قسم کا