خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 75 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 75

خطابات طاہر جلد دوم 55 75 افتتاحی خطاب جلسہ سالانه ۱۹۸۵ء تم ان چیزوں کو ضائع نہیں کرو گے، بریکار نہیں جائیں گی۔وہ سکیمیں بھجوانے میں ہی چھ چھ مہینے ضائع کر دیئے ہیں بعض ممالک نے۔یہ بڑے افسوس کی بات ہے مگر بہر حال بعض ممالک نے بڑا اچھا بھی تعاون کیا، بڑی جلدی بھجوائیں۔زیادہ مشکل یہ پیش آرہی تھی کہ ہم یہاں سے چاہتے تھے کہ اکٹھا انتظام ہو اجتماعی ، یہ نہیں کہ کوئی کسی رنگ کا خرید لیا، کوئی کسی رنگ کا خرید لیا اور بعد میں خراب بھی ہوں تو مصیبت پڑے کوئی کمپنی ذمہ دارنہ ہو اس لئے یہاں ہم تیار بیٹھے تھے۔اب اللہ کے فضل سے چوہدری حمید اللہ صاحب کے سپر د پھر میں نے کیا کہ اب اس کو Final آخری Touches دیں تو انہوں نے مجھے چند دن ہوئے بتایا ہے کہ جو بھی سامان ہے خریدا جا چکا ہے اور مبلغین اب جو واپس جائیں گے تو انشاء اللہ لدے، پھندے جائیں گے یہاں سے اور سینکڑوں دیہات میں اللہ کے فضل سے یہ چل پڑیں گی کیسٹس اور جو سب سے زیادہ لطف آئے گا وہ اس بات کا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی نظمیں بھی ان میں گائی گئی ہیں۔ترجمے ہوئے ہیں اور بڑے اخلاص اور محبت سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے منظوم کلام کو، اپنی زبانوں میں ڈھال کر نغمگی میں سموکر پیغام پیش کیا جا رہا ہے اور بڑا اس کا اثر ہے۔اور نئی تعمیرات، نئے مشن ہاؤس، نئی مساجد ، اب مختصر کرنے کی کوشش کرتا ہوں یہ سال ۷۴ء کا، جس کو یہ اپنا سال بتاتے ہیں ۸۴ ء کا جو خدا تعالیٰ نے جماعت کے اموال پر اثر ڈالا ہے، پاکستان پر جو اس کا اثر پڑا ہے وہ سن لیجئے۔۸۳ء میں کل وصولی پاکستان سے 2,74,24,700 روپے کی ہوئی ہے تمام مدات میں اور جماعت مشکلوں میں مبتلا ، نوکریوں سے فارغ کئے ہوئے لوگ، تجارتوں پر اثر ، مشکلات میں گھرے ہوئے اس کے باوجود خدا تعالیٰ نے یہ داغ نہیں لگنے دیا پاکستان کی جماعت پر کہ مشکلوں کے وقت تم پیچھے رہ گئے اور دو کروڑ چوہتر لاکھ سے 3,10,87,000 تک ان کا بجٹ پہنچ گیا۔یہ بجٹ نہیں، یہ ادائیگی ہے جماعت پاکستان کی خدا کے فضل سے اور بیرونی دنیا میں حال یہ ہے کہ صرف جہاں تک چندوں کا تعلق ہے میں خلاصہ آپ کو پڑھ کے سناتا ہوں کہ ۸۲ء میں تین کروڑ ، پہلا سال جو میری خلافت کا ہے اس وقت تین کروڑ کل چندوں کی آمد تھی۔۱۹۸۳ء میں کل چندے 5,37,80,000 تک پہنچ گئے اور ۱۹۸۴ء میں 10,50,70,800 تک پہنچ گئے اور یہ اعداد و شمار ایسے ہیں جو ابھی مکمل نہیں ہیں۔مثلاً قحط زدگان کی تحریک اس میں شامل نہیں ہے، اس میں