خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 451
خطابات طاہر جلد دوم 451 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ 1998ء رہیں۔ہاں مجبوری کے پیش نظر بیماروں کی ضروریات کے لئے یا دیر سے آنے والے مہمانوں کی فوری ضروریات کی خاطر کچھ دکانیں اگر کھلی رکھی جائیں تو ان پر نگران مقرر ہوں تا کہ وہ دیکھیں کہ وہ مقامی لوگ جن کے لئے کوئی جائز ضرورت نہیں ہے وہ اس موقع سے ناجائز فائدہ نہ اٹھا ئیں۔آپس میں سلام کو رواج دیں آفشو السلام ( ترندی کتاب الاطعمۃ حدیث نمبر: ۱۷۷۷) کسی کو جانیں یا نہ جانیں اس کو سلام کہیں اور آپ کی طرف سے سلام کہنے کا مطلب یہ ہے کہ تم میری طرف سے امن میں ہو، تمہیں میری طرف سے کوئی نقصان نہیں پہنچ سکتا۔تو ایک دعا بھی ہے اور ایک یقین دہانی بھی کہ اللہ کے فضل نے ہمیں وہ جماعت بنا دیا ہے جولوگوں کی بھلائی کے لئے بنائی گئی ہے اور ہم سے کسی کو کوئی شہر نہیں پہنچ سکتا۔سرڈھانپنا صرف عورتوں کے لئے ہی نہیں مردوں کے لئے بھی اس لحاظ سے ضروری ہے کہ سر ڈھانپنے کے ساتھ ایک ذمہ داری کا احساس پیدا ہو جاتا ہے اور آپ بازار میں ٹوپی پہن کر پھرنے والوں کو آوارگی کرتے ہوئے نہیں دیکھیں گے ، شاذ کے طور پر دیکھیں گے ٹوپی یا پگڑی یا اس قسم کا کوئی اور انتظام یہ احساس پیدا کر دیتا ہے کہ ہم سے سرداری کی توقع کی جانی ہے۔عورتوں کو نصیحت میں پہلے بھی کر چکا ہوں کہ پردے کا خیال رکھیں اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے انگلستان میں پلنے والی بچیاں اس پہلو سے بہت سی باہر کی آنے والی بچیوں کے لئے بھی نمونہ ہیں۔جب سے میں نے نصیحت کی ہے اللہ تعالیٰ کے فضل سے اوڑھنی کے ذریعہ اپنے سر اور زینت کو چھپا کر رکھنا الا ماشاء اللہ یہاں کی بچیوں کی عادت بن چکی ہے سوائے چند استثمیات کے۔لیکن بہت سے دوسرے ممالک سے آنے والی خواتین خواہ احمدی ہوں یا غیر احمدی ہوں اور پردہ میں بے احتیاطی کر رہی ہوں ان کو ٹھہرا کر متوجہ کریں۔رستہ چلتے مردوں کا یہ کام نہیں مگر خواتین کی طرف سے ایسی نمائندہ کارکنات مقرر ہونی چاہئیں جو احتیاط اور نرمی، محبت اور پیار کے ساتھ ایسی بچیوں کو سمجھائیں اور بتائیں کہ ایک ایسے جلسہ میں آپ شامل ہیں جس سے بہت اونچی تو قعات کی جاتی ہیں۔میں امید رکھتا ہوں کہ اس کے نتیجہ میں ان میں ایک پاک تبدیلی پیدا ہوگی اور وہ بچیاں جو بعض بیماریوں کی وجہ سے مجبور ہیں کہ وہ پوری طرح سر کو ڈھانپ بھی نہیں سکتیں، اس سے بھی ان کو تکلیف ہو جاتی ہے۔ان کو چاہئے کہ ہر گز سنگھار پٹار کر کے باہر نہ نکلیں۔سادگی اختیار کریں اور ان کی سادگی ہی ان کا پردہ ہوگی۔جیسا کہ میں پہلے بھی عرض کر چکا ہوں۔حفاظت کا سب سے اعلیٰ اور سب دنیا سے الگ