خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 450
خطابات طاہر جلد دوم 450 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ 1998ء ساتھ ایسے ہوں گے جن کو کسی مادی صدقہ کی ضرورت نہیں ہے مگر بھائی کو کچھ دے دینا ان معنوں میں صدقہ ضرور ہے کہ آپ اچھی بات کہیں۔آنحضرت ﷺ نے اچھی بات کہنے کو بھی ایسا ہی قرار دیا ہے کہ جیسے آپ نے اپنے بھائی کو واقعہ کچھ دے دیا ہو اس لئے ان سب باتوں کا خیال رکھتے ہوئے جو خلاصہ میں نے ان امور کا اخذ کیا ہے وہ آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں۔اس میں مہمانوں کے لئے بھی نصائح ہیں اور میز بانوں کے لئے بھی۔نمازوں کا التزام کریں کیونکہ یہ دین کی جان ہیں۔آج کے خطبہ میں آپ نے سن لیا ہے کہ نماز وہ مرکزی نقطہ ہے جس پر اسلام کی تمام عمارت بنائی گئی ہے اس کی تلقین وہ بنیادی اینٹ ہے جس کے اوپر تمام اسلام کی عمارت بنائی گئی ہے۔پس نمازوں کا التزام کریں اور اچھی بات کہنے میں نمازوں کی طرف توجہ دلانے کو بھی شامل کر لیں۔میں چاہتا ہوں کہ اس دفعہ نمازوں کے دوران کوئی ارد گرد بے کارٹولیاں دکھائی نہ دیں۔جو لوگ مختلف فرائض سرانجام دے رہے ہیں ان کو میں پہلے ہی تفصیل سے ہدایت دے چکا ہوں کہ جب بھی توفیق ملے یعنی وقت کے اندر جب ان کا نظام ان کو بتائے کہ اس وقت تم نماز کے لئے الگ ہو جاؤ اور ان کی جگہ دوسرے پہریدار مقرر کئے جاچکے ہوں یا منتظمین مقرر کئے جاچکے ہوں اس وقت جہاں تک توفیق ہے باجماعت نماز پڑھنے کی عادت ڈالیں اور اگر باجماعت نماز پڑھنے کا وقت نہیں مل رہا ، اتنے دوست اکٹھے نہیں ہو رہے تو اللہ پر توکل کرتے ہوئے اس حدیث کے پیش نظر خود ہی اپنی امامت کرائیں جس میں آنحضرت ﷺ نے خوشخبری دی ہے کہ اگر تمہارے ساتھ کوئی اور باجماعت نماز پڑھنے والا نہ ہوتو اللہ اپنے فرشتے اتار دے گا جو تمہاری امامت میں پیچھے نماز پڑھیں گے اور تمہاری نماز کو باجماعت کر دیں گے۔پس ذکر الہی کی طرف خصوصی توجہ دیں۔ذکر الہی ہر ذکر سے بڑھ کر ہے جو نماز میں ہی نہیں بلکہ نماز کے بعد بھی جاری رہتا ہے۔پس اگر آپ اپنے دل کو ذکر سے سجائیں گے تو طبعی طور پر لغو باتوں کی طرف توجہ ہو ہی نہیں سکتی۔ناممکن ہے کہ ایک انسان اللہ کو یا دکر رہا ہو اور ساتھ ہی لغو باتیں کر رہا ہو اس کا مطلب یہ ہے کہ لغو باتیں تو سبھی ہیں لیکن اس کے دل میں ذکر بہر حال نہیں ہے کیونکہ ذکر الہی سے پاک کلام جاری ہوتا ہے اور انسان کی زبان پر اللہ تعالیٰ کا تصرف ہو جاتا ہے۔بازار بھی جلسہ کے دوران بند رہنے چاہئیں۔انتظامیہ کو اس کی سختی سے پابندی کرنی چاہئے کہ بازار بند