خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 405 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 405

خطابات طاہر جلد دوم 405 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ 1996ء لئے آپ کے دل میں ایک بے اختیار آگ سی لگ جاتی ہے، یہ وہ آگ ہے جو دنیا کی آگ کو ٹھنڈا کیا کرتی ہے اور اس تڑپ کے ساتھ آپ دنیا کی طرف بڑھتے ہیں کہ جو کچھ میں نے پایا ہے میں دنیا کو بھی عطا کروں۔اس پہلو سے آپ نے حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کی سیرت کو سمجھ کر قدم پر قدم ملا کر ، قدم پر قدم رکھتے ہوئے بلکہ جب بھی میں یہ کہتا ہوں تو میرے دل پہ ایک قسم کا زلزلہ سا آجاتا ہے آنحضرت کے قدم پر کیسے قدم رکھیں؟ میرا تو تصور بھی محمد رسول اللہ کے قدموں پہ سر رکھنے کی جرات نہیں پاتا۔میں تو اس مضمون کو اپنے دل پہ یوں جاری کرتا ہوں کہ محمد مصطفی ﷺ کے قدموں کے نشان کو بوسے دیتے ہوئے آگے بڑھیں سجدے خدا کو کریں اور محمدمصطفی ﷺ سے اس عشق کا اظہار کریں جو خدا کو ہم سے ملانے کے احسان کے نتیجے میں بے اختیار دل سے پھوٹتا ہے۔یہی وہ راہ تو حید ہے جو ساری دنیا کے لئے آج صراط مستقیم بنائی جائے گی مگر آپ نے اس صراط مستقیم کے نقوش کو اجا گر کر کے، اس کے کناروں کو خوب اچھی طرح سمجھتے ہوئے جانتے ہوئے کہ کہاں قدم رکھنا ہے اور کہاں سے قدم کو روک لینا ہے، تمام خطرات کے مقامات سے آگاہ ہوتے ہوئے آپ نے سفر کرنا ہے۔جب اپنے لئے آپ یہ صراط مستقیم تراشیں گے تو پھر دنیا کو دعوت الی اللہ کرنے کے مستحق ٹھہریں گے اور صراط مستقیم کوئی فرضی چیز نہیں جو باہر پڑی ہوئی ہے، ہر انسان اپنے نفس کے اندر ایک صراط تراشتا ہے، ایک رستہ بناتا ہے۔جو شروع میں ایک چھوٹی سی پگڈنڈی کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے پھر وہ بڑھتا چلا جاتا ہے پھیلتا چلا جاتا ہے اور اگر وہ اس کی روش آنحضرت ﷺ کے قدموں کی روش سے مماثلت رکھتی ہو یعنی ان کی غلامی میں وہ قدم اٹھائے جارہے ہوں تو ہر اگلے قدم کے ساتھ یہ صراط بڑھتی چلی جاتی ہے، چوڑی ہوتی چلی جاتی ہے، محفوظ تر ہوتی چلی جاتی ہے۔پس اس جذبے کے ساتھ اس مضمون کو سمجھتے ہوئے ہم نے دنیا کو تو حید کی طرف بلاتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: نادان اور جاہل لوگ نفس امارہ کی تعلیم سے ایک بات سیکھ لیتے ہیں کہ صرف توحید کافی ہے نبی کریم ﷺ کی پیروی کی ضرورت نہیں۔“ (حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه : ۱۸۰)