خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 347 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 347

خطابات طاہر جلد دوم 347 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ ۱۹۹۴ء موت کے بعد نہ زندگی میں اور اگلی بات سنیں عظیم کردار ہے، اتنا عظیم کردار کہ انسان کی عقل ورطۂ حیرت میں ڈوب جاتی ہے۔اپنا انکسار اور عاجزی دیکھیں فرمایا ! میں نہیں اجازت دوں گا باوجود اس کے کہ میں خدا کا نبی ہوں اس لئے کہ کہیں اللہ میرے ساتھ یہ سلوک نہ کرے۔یہ ہے اللہ کا تقویٰ، یہ تقویٰ خدا کا تھا جو محمد رسول اللہ کے سینے میں بسر کرتا تھا، آپ کے سینے میں رہا کرتا تھا اور آپ نے اسی لئے اس تقویٰ کا ذکر کرتے ہوئے بار بار اشارہ فرمایا! تقویٰ یہاں ہے، یہاں ہے، یہاں ہے (مسلم کتاب البر والصلہ حدیث نمبر : ۴۶۵۰ ) اس سینے میں محمد کے سینے میں تقوی رہتا ہے۔جس نے تقویٰ سیکھنا ہے اس سے سیکھے۔پس فرمایا کہ میں تو اتناڈرتا ہوں اللہ سے کہ کسی انسان پر کوئی ایسی زیادتی کروں جس کے بدلے میں کہیں خدانخواستہ ایسا واقعہ ہو کہ خدا مجھ سے ناراض ہو۔جو شریعت میں اتنا ادنی سے دخل کی بھی اپنے آپ کو اجازت نہیں دیتا تھا اس کی طرف ایسے ظالمانہ فتاویٰ منسوب کر دیئے جائیں کہ گویا قرآن کی تعلیمات کو بھلا کر ان کے بالکل برعکس اور پھر ایک دفعہ نہیں ، دودفعہ نہیں بارہا مسلسل قرآن کریم کی تعلیمات کے برعکس فتوے جاری کرتے رہے اور وہ جو مجسم رحمت تھا، نعوذ باللہ من ذالک وہ دنیا کے لئے مجسم زحمت بن کر ابھرا۔یہ وہ شیطانی خیالات ہیں جو ہتک رسول ہیں اور اس تک رسول کی ہم تمہیں سز انہیں دیں گے مگر خداضر ور تمہیں سزا دے گا۔غزوہ اُحد میں نبی اکرم ﷺ جب مدینے سے نکلے تو اپنے صحابہ سے فرمایا! کون ہے جو ہمیں لشکر کفار سے بچاتے ہوئے کسی رستے سے ان کے قریب لے جائے ؟ یہ غزوہ اُحد کے بعد جب آنحضرت ﷺ نے مکہ واپس لوٹتے ہوئے لشکر کفار کا تعاقب کیا اور سخت زخمی حالت میں صحابہ آپ کے ساتھ روانہ ہوئے، یہ ثابت کرنے کے لئے کہ مسلمان کسی کے رعب میں نہیں ہیں اور جو وقتی شکست تھی وہ بعض لوگوں کی غلطی کے نتیجے میں ایسا واقعہ ہوا ہے۔ورنہ ہم تم سے ڈر کر جان بچانے والے نہیں اور یہ کمزور نسبتاً بہت کم تعداد کا لشکر دشمن کی پیروی کرتے ہوئے ان کے عقب میں پہنچ رہا تھا۔آنحضرت ﷺ نے رہنمائی طلب فرمائی کسی سے کہ تم علاقے کو جانتے ہو، ایسی جگہ بتاؤ کہ رستے میں نہ مڈ بھیڑ ہو جائے ، ہم اس مقام تک پہنچ جائیں جہاں وہ لشکر خیمہ زن ہے۔یہ وہ واقعہ ہے چنانچہ ایک شخص حاضر ہوا، اس نے کہا یا رسول اللہ ! میں جانتا ہوں اور اس نے آنحضرت ﷺ کو اور آپ کے لشکر کو ایسے رستوں سے گزارا کہ دشمن کو اس کی کوئی خبر نہ ہوئی۔رستے میں ایک زمین پڑتی تھی جو