خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 291 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 291

خطابات طاہر جلد دوم 291 افتتاحی خطاب جلسه سالانه ۱۹۹۳ء تقویٰ کو پکڑ لو، تقویٰ کو پکڑ لو، تقویٰ کو پکڑا اگر تمہیں تقویٰ نصیب ہو جائے تو سب کچھ نصیب ہو جائے۔افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ فرموده ۲۹ جولائی ۱۹۹۳ء بمقام اسلام آباد ٹلفورڈ برطانیہ ) تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا۔سورۃ فاتحہ نے جو حد کا مضمون بیان فرمایا ہے یہ ایسا عظیم الشان، بے کنار اور بے پاتال سمندر ہے کہ جس میں جتنا بھی سفر کیا جائے اور جیسے جیسے بھی غوطہ زنی کی جائے اس کا دوسرا کنارہ دکھائی نہیں دیتا۔یہ مضمون وہ ہے جس کے لئے کوئی فصاحت و بلاغت کافی نہیں، یہ مضمون وہ ہے جس کے بیان میں انسان کی یہ زندگی ہی نہیں، نسلاً بعد نسل انسان کی زندگیاں صرف ہو جا ئیں اس مضمون کے ادنی سے حق کو بھی ادا نہیں کر سکتیں، حمد ہی حمد ہے اس کے سوا کچھ بھی نہیں۔ہمارے آقا ملا محمد یہ بھی تو حمدہی کی پیداوار ہیں، ہمارے امام جواس زمانے کے امام بنائے گئے یعنی حضرت مرزا غلام احمد علیہ الصلوۃ والسلام وہ بھی حمد ہی کی غلامی کے نتیجے میں اس مرتبے اور مقام کو پہنچے۔پس حمد کے ترانے گاؤ کیونکہ اُس کے فضل حمد کی صورت میں نازل ہوتے ہیں حمد کے نتیجے میں نازل ہوتے ہیں۔اس کے فضل نازل ہوتے ہیں تو حمد کا جوش اور زیادہ ابھرتا ہے اور انسان کے دل میں موجیں مارنے لگتا ہے اور جوں جوں حمد تمدن میں آتی ہے فضلوں کی بارش اور تیز ہوتی چلی جاتی ہے۔یہ وہ مضمون ہے جس کے متعلق جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے انسان کی قوت بیان عاجز آ جاتی ہے اور اس کا حق ادا نہیں کر سکتی۔آج کا یہ جلسہ بھی خصوصیت کے ساتھ حمد کے ترانے گانے کا جلسہ ہے۔جیسے جیسے یہ جلسہ آگے بڑھے گا آپ دیکھتے چلے جائیں گے اور سنتے چلے جائیں گے کہ کس کس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے