خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 264
خطابات طاہر جلد دوم 264 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ قادیان ۱۹۹۱ء اغراض اور محب علی اور بغض معاویہ کے نتیجہ میں نہ ہو بلکہ انصاف کی محبت کے نتیجے میں ہو اور خدا تعالیٰ اس ملک کو انصاف کی اعلیٰ قدروں پر قائم رہنے کی توفیق عطا فرمائے اور جنہوں نے ہم سے نیکی کی ہے ہمارا رب ان سے نیکی کرے کیونکہ ہمارے پاس تو کوئی ایسا ذریعہ نہیں کہ ہم ان احسانات کا براہ راست بدلہ اُتارسکیں۔اتنا تعاون کا رنگ تھا کہ جب مجھے معلوم ہوا کہ وہ گاڑی جس کا ایک لمبے عرصے سے یہاں قادیان کا آنا منقطع تھا ہماری درخواست پر اُسے دوبارہ جاری کرنے کا حکومت ہند نے فیصلہ کر لیا ہے اور احکامات جاری ہو گئے ہیں۔اکیس تاریخ کو انہوں نے فیصلہ کیا کہ دوبارہ گاڑی چلائی جائے۔میری پیدائش ۱۸؍ دسمبر کو ہوئی تھی اور پہلی گاڑی قادیان 19 دسمبر کو آئی تھی۔میں نے انگلستان کے وقت کے لحاظ سے رات کے وقت ناظر صاحب امور عامہ کو یہ فیکس (Fax) بھجوایا جو اُس وقت دہلی میں تھے کہ ان سے مل کر یہ کہیں کہ میری تمنا ہے کہ اس تاریخ کو اکیس کی بجائے انیس میں بدل دیں اور ایک قسم کا ذاتی پیغام دیں۔ان سے کہیں کہ میں اٹھارہ کو پیدا ہوا تھا اُنیس والی پہلی گاڑی تو مس کر دی کیونکہ قادیان ہی میں پیدا ہوا تھا۔اب جب دوبارہ گاڑی جاری ہو گی تو میں وہ مس نہیں کرنا چاہتا۔ہفتے کا دن تھا دفاتر بند ہو رہے تھے۔وہ فوری طور پر میرا پیغام لے کر ریلوے ہندوستان کے ایک بڑے افسر کی خدمت میں حاضر ہوئے جن کو وہ جانتے بھی نہیں تھے۔جاتے ہی گھبرا کر دفتر میں داخل ہوئے کہ وقت ختم ہو رہا ہے چھٹی ہونے والی ہے اور مجھے یہ پیغام ملا ہے۔اُس نے کہا اگر آپ کے امام کی یہ ذاتی خواہش ہے تو میں اُس خواہش کا احترام کرتا ہوں اور باوجود اس کے کہ دفتر بند ہورہے تھے وہ خود بیٹھا۔اس وقت فیکس بھیجی پنجاب حکومت کو کہ فوری طور پر اس تاریخ کو بدل کر اُنیس میں بدل دیا جائے تو انسانیت کا مظاہرہ جہاں بھی ہو جس مذہب میں بھی ہو جس قوم اور جس وطن اور جس ملک میں بھی ہو بہت ہی پیارا لگتا ہے کیونکہ مذہب کے اعلیٰ مقاصد میں سے انسانیت سکھانا ہے۔پس ہمیں دعا کرنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ تمام دنیا کے انسانوں کو انسانیت عطا کرے۔اگر انسان کو انسانیت مل جائے تو سب دکھ درد دور ہو جائیں گے۔مذہب کو قبول کرنا بعد کی باتیں ہیں۔پہلے آدمی ، آدمی تو بن جائے اور اعلیٰ اخلاقی قدروں کے قیام کا مذہب کے ساتھ بہت گہرا بنیادی تعلق ہے۔جب تک اخلاقی قدروں کی طرف آپ انسان کو واپس نہیں لائیں گے اس وقت تک عالمگیر