خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 242 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 242

خطابات طاہر جلد دوم 242 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ قادیان ۱۹۹۱ء ”اور تمام بھائیوں کو روحانی طور پر ایک کرنے کے لئے اور ان کی خشکی اور اجنبیت اور نفاق کو درمیان سے اٹھا دینے کے لئے بدرگاہ حضرت عزت جلشانہ کوشش کی جائے گی اور اس روحانی جلسہ میں اور بھی کئی روحانی فوائد اور منافع ہوں گے جو انشاء اللہ القدر وقتا فوقتاً ظاہر ہوتے رہیں گئے۔(آسمانی فیصلہ (روحانی خزائن ) جلد نمبر ۴ صفحه : ۳۵۱ تا ۳۵۲) پھر ”شہادۃ القرآن میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں۔اول۔یہ کہ اس جلسہ سے مدعا اور اصل مطلب یہ تھا کہ ہماری جماعت کے لوگ کسی طرح بار بار کی ملاقاتوں سے ایک ایسی تبدیلی اپنے اندر حاصل کر لیں کہ ان کے دل آخرت کی طرف بکلی جھک جائیں اور ان کے اندر خدا تعالیٰ کا خوف پیدا ہو اور وہ زہد اور تقویٰ اور خدا ترسی اور پر ہیز گاری اور نرم دلی اور باہم محبت اور مواخات میں دوسروں کے لئے ایک نمونہ بن جائیں اور انکسار اور تواضع اور راستبازی اُن میں پیدا ہو اور دینی مہمات کے لئے سرگرمی اختیار کریں“۔(شہادۃ القرآن، روحانی خزائن جلد نمبر ۶ صفحه ۳۹۴) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جب ان جلسوں کا آغاز فرمایا تو مخالف بھی حرکت میں آئے اور مخالفت پر کمر باندھی اور بڑا جوش دکھایا۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔اس بات کے سمجھنے کے لئے کہ انسان اپنے منصوبوں سے خدا تعالیٰ کے کاموں کو روک نہیں سکتا۔یہ نظیر نہایت تشفی بخش ہے کہ سال گزشتہ میں جب ابھی فتویٰ تکفیر میاں بٹالوی صاحب کا طیار نہیں ہوا تھا اور نہ انہوں نے کچھ بڑی جد و جہد اور جان کنی کے ساتھ اس عاجز کے کافر ٹھہرانے کے لئے توجہ فرمائی تھی صرف 75 احباب اور مخلصین تاریخ جلسہ پر قادیان میں تشریف لائے تھے مگر اب جبکہ فتویٰ طیار ہو گیا اور بٹالوی صاحب نے ناخنوں تک زور لگا کر اور آپ بصد مشقت ہر یک جگہ پہنچ کر اور سفر کی ہر روزہ مصیبتوں سے کوفتہ ہو کر اپنے ہم