خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 220 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 220

خطابات طاہر جلد دوم 220 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ ۱۹۹۱ء یہ وہ مضمون ہے جس کی طرف حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہماری راہنمائی فرمائی اور قرآن کریم اور سورہ فاتحہ کو سمجھنے کے لئے یہ مضمون چابی کا حکم رکھتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس سلسلے میں ایک بہت ہی عظیم الشان مرکزی بات یہ بیان فرمائی کہ جتنے بھی نبی آنحضرت ﷺ سے پہلے گزرے ہیں ان میں سے کوئی بھی خدا تعالیٰ کی ملکیت میں اس طرح حصے دار نہیں بن سکا۔جس طرح سورۂ فاتحہ نے خدا تعالیٰ کو رب العلمین کے طور پر پیش کیا ہے۔ان کا ملکیت سے حصے دار ہونا یا وقتی تھا یا قومی تھایا محدود جغرافیائی حدود سے تعلق رکھتا تھا۔وہ مالک تو بنائے گئے لیکن ان محدود دائروں میں بنائے گئے جن محدود دائروں کی طرف ان کو مبعوث فرمایا گیا۔فرمایا حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کو جب رَحْمَةً لِلْعَلَمِينَ قرار دیا گیا تو ملوکیت کو بھی وسعت عطا کر دی گئی اور ملکیت کو بھی وسعت عطا کر دی گئی اور اس کے ساتھ خدا تعالیٰ نے آپ کو رَبِّ الْعَلَمِینَ کے معنوں میں مُلِكِ يَوْمِ الدِین بھی بنا دیا۔آپ نے فرمایا یہ وہ معنی ہے جس کی روح سے ہم یقین رکھتے ہیں کہ بالآخر بنی نوع انسان کا ایک ہی مذہب ہوگا اور وہ وہی مذہب ہوگا جو حضرت محمد مصطفی یہ ہے کے قلب صافی پر اتارا گیا۔ایک آپ ہی ہیں جنہیں رَحْمَةً لِلْعَلَمِيْنَ کا قرار دیا گیا، ایک آپ ہی ہیں جن کو خدا تعالیٰ نے اپنے عالمین کے تعلق سے ملکیت کی صفات عطا کی گئیں۔آپ کیسے ملک کہلائیں گے، کیسے مالک بنیں گے؟ جب تک ساری بنی نوع انسان آپ کے ایک جھنڈے کے تابع اکٹھے نہیں ہو جاتے اور اس بنی نوع انسان کو امت واحدہ میں تبدیل نہیں کیا جاتا۔اے جماعت احمد یہ ! آپ کو اس غرض سے مبعوث کیا گیا ہے، آپ کو اس لئے کھڑا کیا گیا ہے کہ تمام بنی نوع انسان کو امت واحدہ میں تبدیل کر دیں اور امت واحدہ میں تبدیل کرنے کے لئے آپ کے اندر اپنی اندرونی تبدیلیاں ضروری ہیں اور جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے اس کا حمد سے بہت گہرا تعلق ہے۔اگر ہر احمدی حمد کے مضمون کو سمجھے اور حمد باری تعالیٰ میں مصروف ہو جائے ، زبان سے نہیں بلکہ اپنے اعمال کے ذریعے ، اپنے افعال کے ذریعے، اپنی جہتوں کے ذریعے اور جہت کا مضمون اس میں بہت ہی اہمیت رکھتا ہے۔آپ خدا کی حمد بیان کرتے ہوئے اگر غیر اللہ کی طرف جہت اختیار کرلیں اپنا منہ غیر اللہ کی طرف موڑے رکھیں اور حمد خدا تعالیٰ کی بیان کر رہے ہوں تو کبھی بھی نہ آپ کی حمد قبول ہوگی نہ حمد کا مضمون آپ کی ذات میں جاری ہوگا۔جہتوں کی درستی بہت ضروری ہے۔