خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 199
خطابات طاہر جلد دوم 199 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ برطانیہ ۱۹۹۰ء گئے۔وہ محض اس خوف سے رکے رہے کہ ایک وسیلہ جماعت تک ان خبروں کو پہنچانے کا ہے، کوئی بہانہ دشمن کو نہ مل جائے۔اس لئے اگر اس خط سے یہ تاثر پڑتا ہے کہ نعوذباللہ ہمارے سلسلے کے کارکنان بزدلی کے نتیجے میں احتیاطیں کر رہے ہیں تو یہ بالکل غلط تاثر ہے، یہ جماعت کی خاطر ان کی محبت میں احتیاطیں کرتے ہیں لیکن دشمن ایسا ظالم ہے کہ ان احتیاطوں کے باوجود جو اس نے کرنا ہے وہ تو بہر حال کر گزرے گا اور جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے متعدد مقدمات میں اس وقت نیم سیفی صاحب کو ملوث کیا جا چکا ہے۔یہ تو ہے احمدیوں کا حال یا احمدیوں کے حال میں سے کچھ تھوڑا سا ذکر اور اس کے نتیجے میں دن بدن احمدیوں کا بڑھتا ہوا اخلاص اور تمام دنیا میں خدا تعالیٰ کے بارش کی طرح نازل ہوتے ہوئے افضال، اب ذرا دیکھیں تو سہی کہ ان دشمنوں کا کیا حال ہے جو اسلام کے نام پر یہ مظالم تو ڑ رہے ہیں وہ تو بہت بڑے بڑے مجاہدین ہوں گے۔اگر وہ بچے ہیں تو خدا کے فیض اور کرم اور رحمت کی نظریں ان پر پڑنی چاہئیں اور بارش کی طرح ان پر فضل برسنے چاہئیں۔کیونکہ اتنی بڑی خدمت تو پھر دین کی کبھی کسی نے نہیں کی ، تاریخ انبیاء میں اس کی کوئی مثال نظر نہیں آتی۔جس قسم کے مظالم خدا کے نام پر پاکستان میں ان ملاؤں نے احمدیوں پر توڑے ہیں۔آپ تاریخ عالم پر نظر ڈال کر دیکھ لیں کسی اور جگہ اس ظلم اور بے حیائی کے ساتھ اس طرح مسلسل کسی نبی کے ماننے والوں پر یہ ظلم نہیں توڑے گئے، جتنا حضرت اقدس محمد مصطفی میت ہے کے آخرین کے دور کی اس جماعت پر توڑے جارہے ہیں۔پس اگر یہ بچے ہیں تو اتنی بڑی نیکی ہے کہ فقید المثال ہے، تمام عالم کی تاریخ میں ایسی کوئی شکل دنیا میں کہیں اور نظر نہیں آئے گی۔پس دیکھتے ہیں کہ خدا اب ان سے کیا سلوک کر رہا ہے ، ان کا کیا حال ہو رہا ہے؟ کیا واقعی خدا ان پر رحمت اور پیار کی نظریں ڈال رہا ہے یا معاملہ کچھ اور ہے؟ یہ کہانی بہت ہی لمبی ، بہت ہی دردناک اور بہت بھیانک ہے،اس لئے میں ایک ایک سطر کے اقتباس پڑھ کر اسی پر اکتفا کروں گا۔نوابزادہ نصر اللہ خان صاحب جو پاکستان کے ایک بزرگ سیاستدان ہیں ، ان کا یہ بیان اخبارات میں شائع ہوا اور باقی سب بیانات ہیں، کسی احمدی کا تبصرہ نہیں بلکہ بزرگ سیاستدانوں یا دوسرے سیاستدانوں کے بیانات ہیں۔