خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 14
خطابات طاہر جلد دوم 14 افتتاحی خطاب جلسه سالانه ۱۹۸۲ء الگ کر دیا گیا تو حضرت اُم سلمہ کہتی ہیں کہ جب ابوسلمہ نے مدینہ جانے کا فیصلہ کر لیا تو انہوں نے اپنے اونٹ کو خوب کھلا پلا کر موٹا کیا اور مجھے اس پر سوار کیا، ساتھ ہی میرے بیٹے سلمہ کو سوار کیا۔پھر ہم اونٹ لے کر چل پڑے۔جب بنو عبد اللہ بن عمر بن مخزوم نے دیکھا تو ہماری طرف لپکے اور ابوسلمہ سے کہا تیری ذات تو ہم سے جدا ہو سکتی ہے لیکن ہماری ساتھن کو کہاں لے کر جارہا ہے۔یہ کہہ کر انہوں نے اونٹ کی نکیل ان کے ہاتھ سے چھین لی اور مجھے پکڑ لیا اور مجھے میرے خاوند سے الگ کر دیا اور اس کو اکیلے ہجرت کی اجازت دی۔اس پر بنی عبد الاسد غصہ میں آگئے اور وہ سلمہ کی طرف آتے ہوئے یہ کہنے لگے کہ خدا کی قسم ! ہم اپنے بیٹے اس عورت کے پاس نہیں رہنے دیں گے۔یعنی بیوی کو یہ حق نہیں تھا کہ وہ خاوند کے ساتھ جا سکے اور بیٹیوں کو یہ حق نہیں تھا کہ وہ ماں کے پاس رہ سکیں۔یہ تمام حقوق تلف ہو چکے تھے۔چنانچہ وہ کہتی ہیں میرا بیٹا بھی مجھ سے چھین لیا گیا۔میرا حال اس وقت یہ تھا کہ میں ہر صبح کو باہر نکل جایا کرتی اور ویرانوں میں بیٹھ کر سارا دن روتی رہتی یہاں تک کہ شام ہو جاتی۔اسی حالت میں سال یا سال کے قریب عرصہ گزر گیا۔آخر بنو مغیرہ میں سے میرے چچا زاد بھائیوں میں سے ایک شخص کو مجھ پر ترس آگیا اور اُس نے مجھے اجازت دے دی کہ میں اپنے خاوند کے پاس چلی جاؤں (سیرت ابن ہشام صفحہ ۳۳۳) پس بگڑی ہوئی قدروں کا یہ بھی حال تھا کہ بیویاں رکھنے کے حق سے خاوند محروم ہو گئے اور بچے رکھنے کے حق سے مائیں محروم ہو گئیں اور مائیں رکھنے کے حق سے بچے محروم کر دئیے گئے۔حضرت رقیہ بنت حضرت رسول اللہ اللہ کے ساتھ بھی یہی سلوک کیا گیا۔قریش مکتبہ کے پاس گئے اور ان سے کہا کہ تم رقیہ بنت محمدیہ کوطلاق دے دو۔ابوجہل نے کہا میری راتوں کی نیند حرام ہوگئی ہے جب تک تم اس لڑکی کو طلاق نہیں دے دیتے اس وقت تک مجھے چین نہیں آئے گا۔چنانچہ مکتبہ اس دباؤ کے نیچے آ کر حضرت رقیہ کو طلاق دینے پر راضی ہو گیا۔(سیرت ابن ہشام صفحہ ۴۴۴۰) پھر جب یہ سب چیزیں حضرت محمد مصطفی حملے اور آپ کے غلاموں کو دین اسلام سے ہٹا نہ سکیں اور وہ استقامت کے بہترین نمونے دکھاتے رہے تب کفار مکہ نے یہ سوچا کہ مسلمانوں کو الگ کر کے ایک وادی میں قید کر دیا جائے۔ان کا اس طرح سوشل بائیکاٹ کیا جائے کہ ان کے لئے خود زندہ رہنا ناممکن ہو جائے۔چنانچہ اس واقعہ کا ذکر مختلف تاریخوں میں بڑی تفصیل سے ملتا ہے کہ کس