خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 100
خطابات طاہر جلد دوم 100 افتتاحی خطاب جلسه سالانه ۱۹۸۵ء اے غلام مسیح الزماں ہاتھ اٹھا موت آ بھی گئی ہو تو ٹل جائے گی ( کلام طاہر صفحہ (۶) اور اے ظلم وستم کی چکی میں پیسے جانے والو! میں پھر تمہیں کہتا ہوں کہ دو گھڑی صبر سے کام لو سا تھیو آفت ظلمت و جو رٹل جائے گی آہ مومن سے ٹکرا کے طوفان کا رخ پلٹ جائے گارت بدل جائے گی ( کلام طاہر صفحہ :۶) پس ان کے لئے بھی دعا کریں اور دعا کریں غلبہ اسلام کے لئے تمام دنیا میں اور دعا کریں کہ خدا ہمیں ان فضلوں کا حقدار بنائے جو وہ نازل فرماتا چلا جارہا ہے۔دعا کریں اپنے کمزوروں کے لئے بھی ، اپنے طاقتوروں کے لئے بھی ، اپنے صحت مندوں کے لئے بھی ، اپنے بیماروں کے لئے بھی، ان کے لئے بھی جن کے سہاگ بس رہے ہیں، زندہ ہیں، ان کے لئے بھی جن کا سہاگ اٹھ چکا ہے۔ماں باپ والوں کے لئے بھی دعائیں کریں، یتیموں کے لئے بھی دعائیں کریں۔جلسے پر آنے والوں کے لئے بھی دعائیں کریں، جلسے پر سے جانے والوں کے لئے بھی دعائیں کریں، ان کو خوشیوں کے ساتھ خوش آمدید کہنے والوں کے لئے بھی دعائیں کریں اور اس تصور سے رونے والوں کے لئے بھی دعائیں کریں کہ کل جب یہ لوگ چلے جائیں گے تو ہمارا کیا حال ہوگا۔اپنے بڑوں کے لئے ، اپنے چھوٹوں کے لئے ، اپنے پہلوں کے لئے آنے والوں کے لئے دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ رحمتوں اور فضلوں کی اسی طرح رحمتیں برساتا رہے۔خدا کی قسم ہم نے تو دکھ میں بھی لذتیں پائی ہیں اپنے رب سے، خدا کی قسم ان دکھوں پہ بھی ہم راضی ہیں، اللہ گواہ ہے کہ ہم راضی ہیں اور ہمیشہ اللہ کی ہر آزمائش پر راضی رہیں گے۔انشاء اللہ۔دعا کر لیجئے۔