خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 76 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 76

خطابات طاہر جلد دوم 16 76 افتتاحی خطاب جلسہ سالانه ۱۹۸۵ء بیرون پاکستان ، ہندوستان بھی تو ہے اور بنگلہ دیش بھی ہے ان کے فنڈ ان میں شامل نہیں ہیں اور اسی طرح سکول ہیں بہت سے تحریک جدید کے سکولوں کا تو چندہ ہے ہی الگ۔بعض مقامی چندے بہت سے ایسے ہوتے ہیں مثلاً یا اتفاقی چندے قرآن کریم کی اشاعت اس میں میں نے تین قرآن کریم کے متعلق آپ کو بتایا کہ ایک ہی دوست نے مثلا تینتیس ہزار پاؤنڈ ادا کیا تھا میں ہزار پاؤنڈ وہ بھی ابھی اس میں شامل نہیں ہے تو وہ اصل اگر یہ ساری چیزیں ڈالیں تو خدا کے فضل سے اس سے بھی زیادہ ہو جائے گا۔بہر حال کل میزان اگر آپ اس میں نصرت جہاں سکول شامل کر لیں تحریک جدید کے سکول چھوڑ کر ، نصرت جہاں ہسپتال شامل کر لیں تحریک جدید کے ہسپتال چھوڑ کر ان کی آمد کا ریکارڈ ہمارے پاس پورانہیں ہے تو 1983ء میں جو بارہ کروڑا کا نوے لاکھ وصولی تھی ، 1984ء میں میں کروڑ ستاسی لاکھ تک پہنچ گئی ہے خدا کے فضل سے۔اب یہ باقی اعداد و شمار پڑھنے کا وقت نہیں ہے۔ایک دلچسپ بات سنا کر اس حصے کو ختم کرتا ہوں۔یہ جو حکومت پاکستان نے جماعت کے خلاف پروپیگنڈا شروع کیا ہوا ہے اس کے کچھ چھوٹے چھوٹے ضمنی پھل بھی ملتے رہتے ہیں، تلاش کرنے پڑتے ہیں ، حوالے دیکھنے پڑتے ہیں۔کسی نے کیا کہا، کسی نے کیا کہا، تو مالی امور کے متعلق عبدالرحیم اشرف کا ایک پرانا ایڈیٹوریل دیکھنے میں آیا بڑا دلچسپ 1956ء میں وہ لکھتا ہے کہ: ”ہم نے تو ساری کوششیں کرلیں اور میں جانتا ہوں کہ میرا یہ لکھنا جماعت احمدیہ کو خوش کرے گا اور چند سال تک وہ فخر سے اس کو پیش بھی کرتے رہیں گے اور میں جانتا ہوں کہ بڑے سخت ، تلخ اور کڑوے گھونٹ ہیں جو میں بھر کہتا ہے:۔رہا ہوں لیکن چوٹی کے ہمارے بزرگ، چوٹی کے علماء ہر بار نا کام اور رسوا ہوئے اور جماعت کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکے اور ہر دفعہ اس جماعت نے ہر مخالفت کے بعد ترقی کی طرف قدم اٹھایا ہے۔“ اور اس وقت جو اس کو ترقی نظر آ رہی تھی مالی امور میں جو بڑی تکلیف دے رہی تھی اس کو وہ ان کی جرات دیکھو ان کے حوصلوں کی بلندی دیکھو کہ ۶۵۷۔۱۹۵۶ء کا بجٹ چھپیں لاکھ روپے تجویز کر دیا ہے۔“