خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 63
خطابات طاہر جلد دوم 83 63 افتتاحی خ ب جلسه سالانه ۱۹۸۵ء اصل میں لکھا ہی یہ گیا تھا کہ اتنا خرچ ہو گا اس لئے وہ اپنی طرف سے سارا وعدہ نقد ادا کر چکے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کو جزائے خیر دے۔ان کے والد ڈاکٹر خلیل الرحمن خان صاحب ((ڈاکٹر نہیں ڈاکٹر تو یہ خود ہیں ) وہ بھی پشاور کے بڑے مخلص اور فدائی آدمی تھے، انہی کی تربیت اور دعاؤں کا نتیجہ ہے کہ ان کی اولاد بھی اللہ کے فضل سے اسی طرح فدائی اور دین کی خدمت کرنے والی ہے۔کویتی ترجمہ کی مبارک ہو یہ بھی پریس میں جاچکا ہے، یعنی پریس میں چلا گیا ہے اور کویتی زبان میں تو میرا خیال ہے یہ تاریخی بات ہے کہ پہلے کبھی بھی ترجمہ نہیں ہوا قرآن کریم کا پہلی دفعہ ہے۔الحمد للہ ہم نے تو کہا تھا کہ آپ تھوڑا شائع کریں چونکہ زیادہ آدمی وہاں نہیں ہیں کو یتی پڑھنے والے ، مگر انہوں نے کہا کہ یہاں تو ابھی سے مانگ شروع ہو گئی ہے اس لئے آپ زیادہ کی اجازت دیں۔میں نے کہا! جتنا پھر شائع کر سکتے ہیں ضرور کریں ، ہم نے تو ضرورت پوری کرنی ہے۔لوگنڈی زبان میں ترجمہ تھا تو سہی لیکن ضرورت تھی ، یہ دوبارہ شائع کیا گیا خدا کے فضل سے۔روسی زبان میں ترجمہ مکمل ہو گیا ہے نظر ثانی مکمل ہوگئی ہے، پریس سے گفت وشنید ہو چکی ہے اب صرف Introduction کا انتظار تھا، وہ بھی مکمل ہے۔یہ کام وہاں اسلام آباد میں کروایا گیا تھا Introduction کا تو یہ بھی شائع ہو جائے گا۔انشاء اللہ اس کے تقسیم کرنے کی تیاری بھی کر لی گئی ہے۔جرمن زبان میں ضرورت تھی ایک قرآن کریم کی چنانچہ ان کو اجازت دے دی گئی ہے یعنی ترجمے کے بغیر شائع کرنے کی پاکٹ سائز کا نہیں بڑا ہے یہ ترجمے کے ساتھ چاہتے ہیں پاکٹ سائز، اس کی پانچ ہزار کی ان کو اشاعت کی اجازت دے دی ہے۔اٹالین ترجمہ خدا کے فضل سے مکمل ہو گیا ہے۔اٹالین ترجمے کا خرچ ، ترجمے کا اور سارے کام کا یہ بھی ہمارے ایک احمدی دوست ڈاکٹر عبدالسلام صاحب نے ادا کیا ہے اور ایک ہزار کی طباعت کا خرچ بھی وہ برداشت کریں گے اور روسی زبان کا سارا خرچ، اس کی تیاری کا بھی اور اشاعت کا بھی چوہدری شاہ نواز صاحب نے خود پیشکش کی تھی اور اصرار کے ساتھ کہا کہ میں ادا کروں گا، اللہ تعالیٰ ان کو بھی جزا عطا فرمائے۔تو تین ترجمے جو اس وقت شائع ہورہے ہیں ان میں سے ایک آنہ بھی جماعت کا خرچ نہیں ہوگا۔انشاء اللہ اور جو آمد ہوگی وہ ساری جماعت کی ہوگی اور اس سے