خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 62 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 62

خطابات طاہر جلد دوم 89 62 افتتاحی خطاب جلسه سالانه ۱۹۸۵ء بھیجنا چاہتے ہیں اور بھی جو ملاقات کر رہے ہیں وہ جرمنی والے اور جگہوں سے انشاء اللہ لوگ بھیجیں گے تو اگر ہم سو سے زائد بچے حاصل کر لیں پہلے سال تو انشاء اللہ تعالیٰ یہ سکول خود کفیل ہو جائے گا۔جو کام تصنیف میں ہوا ہے اس ایک سال کے عرصہ میں، یہ وہ کام ہے جو مرکزی نگرانی میں براہ راست کروایا گیا ہے اور بہت کم رضا کار اس میں شامل ہوئے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ نے تھوڑے کارکنوں میں بھی بہت ہی برکت دی ہے۔تجویز یہ تھی کہ تمام دنیا میں ہر زبان میں احمدیت کا پیغام پہنچانا ہے اور جو لٹریچر نہیں ہے وہ پیدا کرنا ہے تو جب میں نے جائزہ لیا تو بڑا تعجب ہوا کہ بہت ساری زبانیں ہیں جن میں کلیۂ خلا تھا۔کچھ بھی پیش کرنے کے لئے نہیں تھا چنانچہ ایک منصوبہ بنایا گیا لیکن اس کا آغاز قرآن کریم سے کیا ہے، قرآن کریم کی یہ ساری برکت ہے، کہتے ہیں ہاتھی کے پاؤں میں سب کا پاؤں۔قرآن کی ہم اشاعت شروع کر دیں تو اس کی برکت سے ہمارے سارے دوسرے کام اللہ تعالیٰ کے فضل سے خود بخود ہونے شروع ہو جاتے ہیں۔تو قرآن کریم کی اشاعت کے بارہ میں آپ کے لیے یہ خوشخبری ہے کہ فرانسیسی ترجمہ جس کا بڑی دیر سے آپ کو انتظار تھا اب اس وقت پریس میں ہے۔چار مہینے تک۔انشاء اللہ شائع ہو جائے گا اور اس کے ساتھ Introduction تو پہلے شائع ہوا تھا لیکن ہم دوبارہ بھی کر رہے ہیں اور فریج ترجمہ قرآن کریم پر خدا کے فضل سے بڑی محنت ہوئی ہے، یہاں آنے کے بعد بھی اس سے پہلے بھی اور خلافت ثالثہ کے زمانے میں بھی بڑی محنت ہوئی تھی ، بہت کام ہوا تھا اس پر لیکن چونکہ اطمینان نہیں ہوتا تھا کہ غیر زبان ہے ہم میں سے اکثر اس کو نہیں جانتے تو بہر حال اللہ نے فضل کیا اور اب پوری تسلی ہے کہ انشاء اللہ تعالی فرانسیسی زبان میں اس سے اچھا ترجمہ کہیں دنیا کو نظر نہیں آئے گا اور اس کے لئے خدا تعالیٰ نے ساتھ مؤید بھی پیدا کر دیا۔امریکہ میں ہمارے ایک احمدی ڈاکٹر ہیں ڈاکٹر حمید الرحمن صاحب خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ انہوں نے خود ہی مجھے لکھا کہ کسی زبان میں میں سارا خرچ برداشت کرنا چاہتا ہوں جتنا بھی ہے۔تو میں نے کہا کہ دس ہزار ہم شائع کرنا چاہتے ہیں آپ دیکھ لیں ؟ انہوں نے کہا! یہ فیصلہ آپ نے کرنا ہے کہ کتنا، یہ ان کی مرضی تھی یہ فیصلہ نہیں کیا کہ اتنے ہزار کا میں خرچ دوں گا ، آپ فیصلہ کریں مجھے صرف اتنا بتائیں کہ کتنا میں نے دینا ہے چنانچہ تمیں ہزار دوسو پاؤنڈ وہ بھجوا چکے ہیں نقد اور چھتیں ہزار کا Estimate تھا وہ چند روپے پیچھے رہ گئے ہیں وہ بھی بعد میں انشاء اللہ آ جائیں گے، ان کو