خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 51
خطابات طاہر جلد دوم 51 افتتاحی خطاب جلسہ سالانه ۱۹۸۵ء کم از کم 100 تک پہنچانا ہے صد سالہ جو بلی سے پہلے۔تو خدا تعالیٰ کے فضل سے موریطانیہ، ٹونگا، روانڈا، برونڈی، زنجبار اور موزمبیق میں ہمیں ان نئے ممالک میں احمدیت قائم کرنی کی توفیق ملی ہے۔موریطانیہ تو گیمبیا مشن کی تبلیغ سے احمدی بنا شروع ہوا ہے، ٹونگا طاہر حسن صاحب منشی نجی کے ہیں انہوں نے وعدہ کیا تھا، ان کے ذریعہ اللہ کے فضل سے یہاں بیج لگا، ان کے ساتھ مختار علی مقبول بھی تھے۔روانڈا میں اور برونڈی اور زنجبار اور موزمبیق میں یہ تنزانیہ مشن کی کوششوں کے نتیجے میں کام ہوا ہے۔اللہ تعالیٰ ان کو جزا دے اور باقی ممالک کو میں یاد کرا رہا ہوں اب وہ اپنا فرض یا درکھیں تھوڑ اوقت رہ گیا ہے۔میں تو یونہی میں نے کہا تھا اصل میں جو سکیم ہے وہ تو یہ ہے کہ ہر ملک کو ایک سے زائد نام دیئے گئے تھے اگر وہ سارے اپنا کام کریں تو ناممکن ہے کہ دنیا میں ایک بھی ملک ایسا باقی ، رہ جائے جہاں سو سال سے پہلے پہلے احمدیت کا پودا نہ لگ چکا ہو۔امر واقعہ یہ ہے کہ انفرادی تبلیغ کے بغیر آپ دنیا میں اسلام کا جھنڈا نہیں گاڑ سکتے۔مبلغین کے ذریعے ساری دنیا اسلام کے لئے فتح کرنی یہ تو محض خواب ہے ایک دیوانے کا خواب ہے صرف ایک امید کی صورت ہے کہ کچھ نہ کچھ خدا فضل فرما تار ہے لیکن اللہ تعالیٰ بھی تو جو ذمہ داریاں ڈالتا ہے، ان پر زیادہ فضل فرماتا ہے جو دیانتداری سے ان کو ادا کرنے کی کوشش کرتے ہیں اس لئے اس بات کو نہ بھولیں کہ آپ نے کام کرنا ہے اور پھر تو کل کرنا ہے، کام نہ کر کے تو کل یہ جہالت ہے یہ اسلامی فلسفہ نہیں ہے۔تو دنیا فتح ہوا کرتی ہے افرادی قوت سے ، یہ اشتہاری تبلیغی کتا بیں یہ ریڈیو پرو پیگنڈے یہ سارے تو دور کے فائر ہیں، جس طرح Tunnel فائر ہوتا ہے Cover دینے کے لئے ، علاقے تو نہیں فتح ہوا کرتے Territory تو ہمیشہ سپاہی سے فتح ہوتی ہے۔چنانچہ ہمارا تجربہ ہے یورپ میں جہاں جہاں یہ بیدار ہوئے ہیں مثلاً جرمنی میں ان پڑھ، آدھے پڑھے ہوئے بیچارے زیادہ دین کا علم بھی نہیں رکھتے تھے ان کی تبلیغ کے نتیجے میں یہ تبدیلی پیدا ہوئی ہے کہ جہاں اس سے پہلے دس سال میں پچاس بھی نہیں ہوئے تھے وہاں ایک سال میں ایک سو پندرہ ہو گئے اور ہر معیار کے ہوئے ہیں، بڑے بڑے تعلیم یافتہ بھی ہوئے ہیں، مختلف ممالک کے ہوئے ہیں ، عرب بھی ہوئے ہیں غیر عرب بھی ہوئے ہیں، ایسٹ یورپین ممالک کے بھی ہوئے ہیں، اٹلی کے بھی ہوئے ، فرانس کے بھی ہوئے اور ان کا بڑا اعلیٰ اخلاص کا نمونہ ہے میں مل کے آیا ہوں ، تو