خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 520
خطابات طاہر جلد اول 520 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ 2002ء کہ تیرا سارے کا سارا منصوبہ برباد ہو گیا ہے۔اور میرا رب ہر اس امر کی پردہ دری کرتا ہے جسے تو چھپاتا ہے۔علام الغیوب خدا تجھ کو بتائے گا کہ جو کچھ تو چھپاتا رہا ہے اور وہ تیرے سامنے اس کو ظاہر کر دے گا جس کا تو آج انکار کر رہا ہے۔( قصائد الاحمدیہ صفحہ: ۴۱ و ۴۸) حضرت شیخ محمد اسماعیل صاحب سرساوی بیان فرماتے ہیں کہ : ”ایک دفعہ کا ذکر ہے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نماز ظہر سے فارغ ہو کر مسجد مبارک میں ہی تشریف فرما ہوئے اور آپ نے دائیں ہاتھ میں اپنی پگڑ مبارک ( پگڑی مبارک ) کا شملہ پکڑ کر اپنی پیشانی مبارک پر رکھ دیا اور خاموش ہو کر بیٹھ گئے جیسے کوئی کسی گہری فکر میں ہو اور میں نے آپ کے پیر مبارک دبانے شروع کر دیئے اور آپ کے خدام بھی آپ کی طرف منہ کر کے خاموش ہوئے بیٹھے رہے۔پانچ سات منٹ خاموشی ہی رہی۔آپ نے حضرت خلیفہ اول کو مخاطب ہو کر فرمایا : مولوی صاحب ! افسوس آتا ہے اس نازک وقت کو بھی علماء نے نہ دیکھا کہ ہر طرف سے اسلام پر دشمنان اسلام نے تیر چلا کر اسلام کو زخمی کر دیا اور اسلام کے پاک اور مصفا منور چہرہ پر داغ لگا کر بھونڈے سے بھونڈے اعتراض کر کے لوگوں کو دکھلا رہے ہیں اور ان اعتراضوں کی وجہ سے سینکڑوں معمر مولوی اور مسلمان اسلام سے روگردانی کر کے دوسرے مذہب میں داخل ہو چکے ہیں اور خود اسلام کو گندے سے گندے اعتراضوں سے بد نام کر رہے ہیں۔افسوس ہے ان علماء پر کہ انہوں نے اس وقت کے حالات پر بھی غور نہ کیا۔اے غافلو ! تم نے تو اسلام کی خبر بھی نہ لی۔کیا خدائے تعالیٰ بھی تمہاری طرح سے ہی غافل تھا جو وہ اسلام کی خبر نہ لیتا۔وہ غفلت سے پاک ہے اس لئے عین وقت پر خبر لی اور مجھے آسمانی پانی پلا کر اسلام کی حفاظت کے لئے بھیجا ہے تا میرے ذریعہ اپنے اسلام کو زندہ کرے اور تمام مذاہب پر اسلام کی برتری کو ظاہر کرے اور وہ اب میری ہی