خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 511 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 511

خطابات طاہر جلد دوم 511 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ 2001ء تیرا خدا تیرے اس فعل سے راضی ہوا اور وہ تجھے بہت برکت دے گا یہاں تک کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے“۔(تذکرہ: ۸) ایک دفعہ مولوی محمد حسین بٹالوی سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا مناظرہ مقرر ہوا اور جو باتیں اس نے کیں وہ آپ کو ٹھیک لگیں۔وہ قرآن وحدیث کے مطابق تھیں۔تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس پر کوئی تعرض نہیں کیا اور تسلیم کر لیا اور اُٹھ کر آگئے۔محمد حسین بٹالوی کے جومرید تھے انہوں نے شور مچادیا کہ مرزا ہار گیا اور کوئی بھی اس کی بن نہیں پڑی مگر آپ چونکہ حق پرست تھے اس لئے حق بات آپ کو تسلیم کرنی پڑی اور آپ نے تسلیم کر لی۔اتنی بات جو اس نے کہی تھی وہ ضرور بچی تھی۔اس کے متعلق الہام ہوا کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈ میں گئے“۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا تم نے میری خاطر ایک حق بات کو قبول کیا ہے اور لوگوں کی تضحیک کا نشانہ بنا ہے اور کچھ پروا نہیں کی تو اب میں تجھے اتنی عزت دوں گا تیرا خدا تیرے اس فعل سے راضی ہوا اور وہ تجھے بہت برکت دے گا یہاں تک کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے“۔پھر فرمایا : پھر ” بعد اس کے عالم کشف میں وہ بادشاہ دکھلائے گئے جو گھوڑوں پر سوار تھے۔چونکہ خالصاً خدا اور اس کے رسول کے لئے انکسار اور تذلل اختیار کیا گیا اس لئے اس محسنِ مطلق نے نہ چاہا کہ اس کو بغیر اجر کے چھوڑے“۔( براہین احمدیہ ہر چہار صص روحانی خزائن جلد اصفحه ۶۲۲ حاشیه در حاشیه ) ایک اور جگہ بادشاہوں کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں۔" مجھے اللہ جل شانہ نے یہ خوشخبری بھی دی ہے کہ وہ بعض امراء اور ملوک کو بھی ہمارے گروہ میں داخل کرے گا اور مجھے اس نے فرمایا ہے کہ میں تجھے برکت پر برکت دوں گا یہاں تک کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے“۔( برکات الدعار وحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۳۵) پھر ایک اور جگہ تجلیات الہیہ میں آپ فرماتے ہیں:۔عالم کشف میں مجھے وہ بادشاہ دکھلائے گئے جو گھوڑوں پر سوار تھے اور کہا گیا کہ یہ ہیں جو اپنی گردنوں پر تیری اطاعت کا جوا اٹھائیں گے اور خدا