خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 506 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 506

خطابات طاہر جلد دوم 506 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ 2001ء شَيْءٍ فَقَدَّرَهُ تَقْدِيرً ا یعنی اس کے ملک میں کوئی اس کا شریک نہیں۔وہ سب کا خالق ہے اور اس کے خالق ہونے پر یہ دلیل واضح ہے کہ ہر ایک چیز کو ایک اندازہ مقرری پر پیدا کیا ہے کہ جس سے وہ تجاوز نہیں کرسکتی بلکہ اس اندازہ میں محصور اور محدود ہے“۔(پرانی تحریریں۔روحانی خزائن جلد ۲ صفحہ ۸) پس ہر چیز کی ایک ایسی لَا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا (البقره: ۲۸۷) والی کیفیت پیدا ہوتی ہے کہ ہر چیز کی ایک حد وسعت ہے۔اس وسعت سے وہ آگے بڑھ نہیں سکتا اور جو کسی کو پابند کرتا ہے لازماً اس کی پابندی، پابند کرنے والے کی طرف بھی اشارہ کر رہی ہے۔کسی نے پابند کیا ہے تو اس کو پابند ہونا پڑا۔اس ضمن میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مزید فرماتے ہیں: د یعنی زمین اور آسمان اور جو کچھ اُن میں ہے سب خدا تعالیٰ کی ملکیت ہے کیونکہ وہ سب چیزیں اُسی نے پیدا کی ہیں اور پھر ہر ایک مخلوق کی طاقت اور کام کی ایک حد مقرر کر دی ہے تا محدود چیزیں ایک محد دپر دلالت کریں۔( جو حد لگاتا ہے اس پر جس پر حد گتی ہے وہ دلیل بن جاتا ہے کہ مجھ پر کوئی حد لگانے والا ہے۔تو ہر چیز کی ایک حد مقرر کر دی ہے۔جو خدا تعالیٰ ہے۔سو ہم دیکھتے ہیں کہ جیسا کہ اجسام اپنے اپنے حدود میں مقید ہیں اور اس حد سے باہر نہیں ہو سکتے ، اسی طرح ارواح بھی مقید ہیں اور اپنی مقررہ طاقتوں سے زیادہ کوئی طاقت پیدا نہیں کر سکتے۔(چشمہ معرفت۔روحانی خزائن جلد ۲۳ ، صفحہ: ۱۷) اب سورۃ الحشر کی ایک آیت ہے۔هُوَ اللهُ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْمَلِكُ الْقُدُّوسُ السَّلامُ الْمُؤْمِنُ الْمُهَيْمِنُ الْعَزِيزُ الْجَبَّارُ الْمُتَكَثِرُ سُبْحْنَ اللهِ عَمَّا يُشْرِكُونَ (الحشر (٢٣) وہی اللہ ہے جس کے سوا اور کوئی معبود نہیں۔وہ بادشاہ ہے، پاک ہے،سلام ہے۔امن دینے والا ہے، نگہبان ہے، کامل غلبہ والا ہے، ٹوٹے کام بنانے والا ہے (اور ) کبریائی والا ہے۔