خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 494
خطابات طاہر جلد دوم 494 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ 2000ء ا آنکھوں کے سامنے ہے۔میں نے تیرا نام متوکل رکھا۔خدا عرش پر سے تیری تعریف کر رہا ہے۔ہم تیری تعریف کرتے اور تیرے پر درود بھیجتے ہیں۔لوگ چاہتے ہیں کہ خدا کے نور کو اپنے مونہہ کی پھونکوں سے بجھا دیں۔مگر خدا اُس نور کو نہیں چھوڑے گا جب تک پورا نہ کر لے اگر چہ منکر کراہت کریں۔ہم عنقریب اُن کے دلوں میں رعب ڈالیں گے۔جب خدا کی مدد اور فتح آئے گی اور زمانہ ہماری طرف رجوع کرلے گا تو کہا جائے گا کہ کیا یہ سچ نہ تھا۔جیسا کہ تم نے سمجھا اور کہتے ہیں کہ یہ صرف بناوٹ ہے۔اُن کو کہہ دے کہ خدا ہے جس نے یہ کاروبار بنایا۔پھر ان کو چھوڑ دے تا اپنے بازیچہ میں لگے رہیں“۔(تذکرہ صفحہ: ۲۹۷، ۲۹۸) ترجمہ : ”ہم جب کسی چیز کو چاہیں۔تو ہمارا حکم اس کے متعلق صرف یہ ہوتا ہے کہ ہم کہتے ہیں۔ہو جا۔پس وہ ہو جاتی ہے۔ہم انہیں ایک مقررہ وقت تک مہلت دے رہے ہیں۔جونز د یک وقت ہے اور اللہ تعالیٰ کا تجھ پر بیشمار فضل ہے۔تیرے پاس میری نصرت آئے گی۔میں ہی رحمن ہوں اور جب اللہ کی نصرت آئی اور میں فیصلہ کے لئے متوجہ ہوا تو کہیں گے اے ہمارے رب! ہمیں بخش دے۔ہم خطا کار ہیں اور ٹھوڑیوں کے بل گریں گے۔( تب انہیں کہا جائے گا کہ ) آج تم پر کوئی گرفت نہیں۔اللہ تمہیں معاف کرے اور وہ سب سے زیادہ معاف کرنے والا ہے۔ان دنوں میں تمہیں بشارت ہو۔دشمنوں کے چہرے متغیر ہو جائیں گے۔اس دن ظالم کفِ دست ملے گا اور کہے گا۔کاش میں اس رسول کا راستہ اختیار کر لیتا اور کہتے ہیں یہ تو انسان کا اپنا بنایا ہوا کلام ہے۔کہ اگر یہ غیر اللہ کا کلام ہوتا تو تم اس میں بہت اختلاف پاتے اور مومنوں کو بشارت دو کہ اُن کے لئے اُن کے رب کے حضور میں ایک ظاہر و باطن طور پر کامل درجہ ہے۔اللہ انہیں ہرگز رُسوا نہیں کرے گا۔(تذکرہ صفحہ ۳۰۵) اار دسمبر ۱۹۰۰ء کا الہام ہے: (1) میں ہرگز یقین نہیں رکھتا کہ میں اس وقت سے پہلے مروں جب تک