خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 468 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 468

خطابات طاہر جلد دوم 468 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ 1999ء چنانچہ جماعت احمدیہ کی نئی صدی کا آغاز 2001ء میں ہوگا اور آئندہ سال اس صدی کا آخری سال ہوگا۔بہر حال یہ تو ایک ضمنی بات تھی۔اب میں آپ کے سامنے چند ایسے امور رکھتا ہوں جن کا جماعت احمدیہ کی تاریخ سے اس قدر گہرا تعلق ہے کہ ان کو سنگ میل قرار دیا جا سکتا ہے۔خدا ہماری ان فتوحات کی نئی راہوں کو اور زیادہ وسیع فرمادے اور جماعت احمد یہ کوفتح پر فتح کا نظارہ دکھا تا چلا جائے۔ایک ہی سال میں ایک کروڑ سے زائد احمدی ہونے کی اطلاع ہمیں مل چکی ہے اور یہ بھی اس صدی کا خاص سنگ میل ہے۔آج تک دنیا میں کسی مذہب کو یہ تو فیق عطا نہیں ہوئی کہ ایک سال میں ایک کروڑ سے زائد بندگان خدا کے دل خدا کے قدموں میں پیش کر سکے اور ساری دنیا میں بے انتہا عیسائی ترقی کے باوجود کوئی دنیا کا عیسائی ملک یہ دعویٰ بھی نہیں کر سکتا ، ثابت کرنا تو در کنار یہ دعوی بھی نہیں کر سکتا کہ اس ایک سال میں ہمیں ایک کروڑ کے لگ بھگ نئی روحیں عطا ہوئی ہیں لیکن ابھی اطلاعیں آ رہی ہیں اس لئے آخری اعداد و شمار انشاء اللہ حسب موقع بیان کروں گا۔سورة النصر میں جو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللهِ أَفْوَاجًان فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرْهُ إِنَّهُ كَانَ تَوَّابًا ( انصر ۲۰ تا ۴) کہ جب بھی تم دیکھو گے کہ لوگ فوج در فوج اسلام میں داخل ہور ہے ہوں وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللهِ أَفْوَاجًا تو یہ ایک ایسا منظر ہے جو دنیا کی فتوحات میں کہیں دکھائی نہیں دیتا۔فوجیں جوق در جوق اور دستہ بدستہ غیر ملکوں کی زمین میں داخل ہوا کرتی ہیں۔یہاں الٹ منظر ہے فوج در فوج لوگ اسلام کی سرزمین میں داخل ہورہے ہیں۔اس موقع پر نصیحت یہ ہے کہ اس وقت اپنے غرور اور تکبر اور نفسانی بت توڑ دو اور خدا کے حضور جھک جاؤ اور اسی سے دُعا مانگو، اسی سے استغفار کرو، اسی کی حمد بلند کرو۔پس آج کا جلسہ اس پہلو سے بھی خاص سورۃ النصر کا جلسہ ثابت ہوگا جو انشاء اللہ تعالیٰ رفتہ رفتہ کھلتا چلا جائے گا۔اس ضمن میں ایک ایسی بات کا میں ذکر کرنے لگا ہوں جو براہ راست تو اس جلسے سے تعلق نہیں رکھتی مگر مجبوراً مجھے اس کا ذکر کرنا پڑ رہا ہے۔بات یہ ہوئی کہ کچھ عرصہ پہلے کراچی میں ایک جاہل نے مباہلہ کی جرات کی ہے حالانکہ میں نے جماعت کو یہ ہدایت کی تھی کہ اب مباہلہ کی بات چھوڑ دیں