خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 431 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 431

خطابات طاہر جلد دوم 431 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ 1997ء یہ مخالفین کی جو یاوہ گوئی تھی اُس کا خلاصہ میں نے خود تیار کیا ہے۔ان میں ایک بھی ایسی بات نہیں جو انہوں نے نہ کہی ہو۔لیکن یاوہ گوئی کی جو خوستیں تھیں جو ایسا گندا کلام تھا جو پیش نہیں کیا جاسکتا۔اس کو چھوڑ دیا گیا ہے۔مگر بعینہ یہی آریوں کی تحریروں کا خلاصہ تھا جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کسی قدر تفصیل سے درج فرمایا اور میں نے اُس کا خلاصہ آج آپ کے سامنے رکھا ہے۔اس کے بعد پنڈت لیکھرام نے ۱۸۸۶ء میں ہی کتاب سرمہ چشم آریہ کے جواب میں نسخہ حبطا حمدیہ یعنی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے نعوذ باللہ پاگل پن کے ثبوت کا ایک نسخہ اور آریوں کی طرف سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی دعوت مباہلہ کے جواب میں اپنی طرف سے حضور کو خود ایک مباہلے کا چیلنج دیا۔اُس کا مضمون مباہلہ شاید سارانہ بھی پڑھ سکوں مگر اُس کا کچھ حصہ میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔وہ لکھتا ہے۔میں نیاز التیام لیکھر ام ولد پنڈت تاراسنگھ صاحب شر مامصنف تکذیب براہین احمدیہ درسالہ ہذا اقرار صحیح بدرستی ہوش وحواس کر کے کہتا ہوں کہ میں نے اوّل سے آخر تک رسالہ سرمہ چشم آریہ کو پڑھ لیا اور ایک بار نہیں بلکہ کئی بار اس کے دلائل کو بخوبی سمجھ لیا بلکہ ان کے بطلان کو بروئے ست دھرم رسالہ ہذا میں شائع کیا۔میرے دل میں مرزا جی کی دلیلوں نے کچھ بھی اثر نہیں کیا اور نہ وہ راستی کے متعلق ہیں۔میں اپنے جگت پتا پر میشر کو ساکھی جان کر اقرار کرتا ہوں کہ جیسا کہ ہر چہاروید مقدس میں ارشاد ہدایت بنیاد ہے اس پر میں پختہ یقین رکھتا ہوں کہ میری رُوح اور تمام ارواح کو کبھی نیستی یعنی قطعی ناش نہیں ہے اور نہ کبھی ہوا اور نہ ہوگا۔(اس کے بعد وہ وید کی تعلیم سے متعلق جو کچھ سمجھا اُس کو پیش کرتا ہے۔آخر پر وہ یہ لکھتا ہے۔) اے پر میشر ہم دونوں فریقوں میں سچا فیصلہ کر کیونکہ کا ذب صادق کی طرح کبھی تیرے حضور میں عزت نہیں پاسکتا۔(حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲ صفحہ: ۳۲۸ تا۳۳۲) یہ اُس کی تحریر تفصیل سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے حقیقۃ الوحی میں درج فرمائی۔اس کے بعد جو ۲۰ فروری ۱۸۸۶ ء آیا۔اُس میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اندر من مراد آبادی اور لیکھرام پشاوری کو اس بات کی دعوت دی۔۱۸۸۶ء کو یا درکھیں۔ان کو دعوت دی۔اندرمن نے تو اعراض کیا اور اُس دعوت کا جواب نہیں دیا اور کچھ عرصہ کے اندر خود اپنی موت