خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 430 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 430

خطابات طاہر جلد دوم 430 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ 1997ء کو جعل ساز اور ان کی کتابوں کو جعلی تحریریں خیال کرتا ہوں اور یقین رکھتا ہوں کہ ان غیر ملکوں میں سب جھوٹے آتے رہے کبھی ایک ملہم بھی سچا نہیں آیا۔( یعنی ہندوستان کے سوا ساری دنیا میں ہمیشہ سے جو خدا کے برگزیدہ ظاہر ہوتے رہے ہیں۔وہ تمام تر ہر ایک ان میں سے جھوٹا اور مفتری تھا اور کسی پر خدا کا کوئی کلام نازل نہیں ہوا ) یہ سچائی ہمارے آر یہ دلیں سے ہی خاص رہی اور اسی سے پر میشر کا دائمی تعلق اور پیوند رہا ہے اور ہمیشہ آئندہ بھی اُسی سے رہے گا۔ایسا ہی میں قرآن اور اُس کے اصولوں اور تعلیموں کو جو دید کے اصولوں اور تعلیموں سے برخلاف ہے جھوٹ اور جعل جانتا ہوں۔لیکن میر افریق مخالف جو مؤلف رسالہ سُرمہ چشم آریہ ہے۔وہ قرآن کو خدا کا کلام جانتا ہے۔( آج جو پاکستان میں یہ منحوس کوشش ہو رہی ہے کہ ہمیں قرآن کریم سے الگ کر دیں۔اُس زمانہ میں ایک ہی قرآن کا علمبر دار تھا۔جس نے آریوں سے ٹکر لی اور آریوں نے تسلیم کیا کہ یہ ہمارا مخالف قرآن کو سچا الہی کلام جانتا ہے ) اور اس کی سب تعلیموں کو درست اور صحیح سمجھتا ہے ( جو آج کے مولویوں کو بات سمجھ نہیں آئی۔وہ اُس زمانہ کے آریوں کو بھی سمجھ آگئی تھی ) اور وید اور اُس کے ان اصولوں اور دوسری تعلیموں کو جو قرآن کے مخالف ہے سراسر غلط اور جھوٹ خیال کرتا ہے۔سواب اے ایشر! تو ہم دونوں فریقوں میں سچا فیصلہ کر اور جس فریق کے اصول اور اعتقاد جھوٹے اور ناپاک ہیں۔جن کو وہ کسی نا پاک کتاب کی رُو سے مانتا ہے۔اُس کو ذلیل اور رسوا کر اور ہم دونوں میں سے وہ شخص جو تیری نظر میں کا ذب اور دروغ گو ہے اور اُس کے عقائد اور اصول تیری تو ہین اور بہتک عزت کا موجب ہیں اور دانستہ ان کا پابند ہورہا ہے اُس کو اے ایشر ایسے دکھ کی مار پہنچا اور ایسی لعنت سے بھری ہوئی اُس کی رسوائی کر کہ ایک سال کے عرصہ تک وہ لعنت کا اثر جو عذاب مؤلم ہے ظاہر ظاہر اُس کو پہنچ جائے۔اے ایشر تو ایسا ہی کر کیونکہ کاذب صادق کی طرح کبھی تیرے حضور میں عزت نہیں پاسکتا۔آمین۔فقط سرمه چشم آرید روحانی خزائن جلد۲ صفحه: ۳۰۵ تا ۳۰۸)