خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 419
خطابات طاہر جلد دوم 419 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ 1997ء دنیا پر نازل ہوئے اور ایک ایسی اللہ تعالیٰ کی طرف سے تنبیہ کی سنت تھی جو جاری ہو رہی تھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تائید میں۔" دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اُس کو قبول نہیں کیا لیکن خدا اُسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اُس کی سچائی ظاہر کر دے گا۔(تذکرہ صفحہ: ۸۱) یہ الہام تھا جو اُس سال بڑی شان اور شوکت کے ساتھ پورا ہورہا تھا۔عجیب بات یہ ہے کہ ۱۸۹۷ء کے عام الحزن کے مقابل پر ۱۹۹۷ ء کا سال پاکستان کے لئے عام الحزن بن چکا ہے اور یہ ایک ایسی مماثلت ہے جو ہماری بنائی ہوئی نہیں بلکہ غیروں نے اسے عام الحزن ہی قرار دیا یعنی اُس پاکستان کے لئے جو احمدیت کو مٹانے کے درپے ہے۔اور ہر طرح سے جماعت احمدیہ پر مظالم توڑے گئے اور جماعت احمدیہ کی ترقی کے راستے روکے گئے۔ان سب چیزوں میں وہ نامرادر ہے جو کچھ حاصل ہوا وہ یہ تھا کہ آج پاکستان کے اخبارات میں یہ سرخیاں چھپ گئی ہیں کہ یہ آج کا سال عام الحزن ہے۔قتل وغارت، دہشت گردی ، اغواء، ڈکیتی ، گینگ ریپ یہ سارے واقعات یہ سال اپنے پیچھے چھوڑ کے جا رہا ہے اور ملک سے امن اٹھ چکا ہے۔یہ ایک ایسی گواہی ہے۔جس کے حق میں ایک منہ پھٹ احمدیت کے دشمن مولوی کو بھی یہ کہنے کی تو فیق ملی کہ ملک میں امن وامان کی صورت حال ابتر ہوگئی ہے۔ملک دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے۔کسی کی جان اور مال اور آبرو محفوظ نہیں۔(دیکھوروز نامہ جنگ لاہور ۱۵ جون ۱۹۹۷ء) سال ۱۸۹۷ء میں پچھلے سالوں کی نسبت جہاں تک جماعت احمدیہ کا تعلق ہے کثرت کے ساتھ کتابیں شائع کی گئیں اور حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہی کو خدا تعالیٰ نے یہ توفیق دی کہ بہت ہی عظیم الشان کتابوں کی تصنیف فرمائی جن میں سے انجام آنقم ، مجتہ اللہ سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب، استفتاء، سراج منیر اور کتاب البریہ مشہور ومعروف ہیں۔اب یہ تعجب ہے کہ اُس ایک سال میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو دوسری تمام مصروفیات کے باوجودان کتب کی تیاری کی فرصت کیسے ملی۔بہت ہی عظیم کتابیں ہیں۔بہت ہی گہرے مضامین پر مشتمل کتابیں ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو اس طرح ظاہری طور پر تصنیف میں مددگار بھی