خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 35 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 35

خطابات طاہر جلد دوم 35 افتتاحی خ ب جلسه سالانه ۱۹۸۵ء یعنی پاکستان سے باہر کے ممالک کا تعلق ہے، ان کی حکومت سے وابستہ لوگوں کو، ان کے صائب الرائے لوگوں کو اس کثرت کے ساتھ ہر مختلف زبانوں میں یہ لٹریچر ترجمہ کروا کے بھجوایا گیا کہ تمام دنیا کی فضا کو گویا انہوں نے احمدیت کے خلاف زہر آلود کر دیا۔چنانچہ لازم تھا کہ فوری طور پر اس کا توڑ کیا جائے اور تمام دنیا کے احمدیوں کو حالات سے باخبر رکھا جائے اور اخبارات سے رابطہ اور تمام دنیا کے سیاستدانوں اور ذی شعور لوگوں سے رابطہ اور بروقت سب کو اعداد و شمار مہیا کرنا، پاکستان میں کیا ہورہا ہے، کیوں ہو رہا ہے ان حالات سے آگاہ کرنا بہت بڑا کام تھا۔تو اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ اس کام کے لئے بھی بہت ہی مخلص واقفین آگے آئے اور نہایت عمدگی کے ساتھ ان ساری ذمہ داریوں کو انہوں نے نبھایا۔بعض ایسے تھے جو جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے وہ ہمہ وقت جماعت ہی کے تھے لیکن جو آنے جانے والے تھے ، اُن میں سے بھی اکثر کے اوقات صبح ساڑھے نو بجے سے رات گیارہ بجے تک ہوتے تھے اور یہ کام ابھی تک اسی طرح جاری ہے۔اس میں بوڑھے، بچے، جوان سارے شامل ہیں ، مستورات بھی خدمت کر رہی ہیں۔ان کے کام کی تفصیل کے ذکر کا موقع تو نہیں ہے، میں خلاصہ بعض اعداد آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔دنیا بھر کے 115 اخبارات ورسائل کو انہوں نے 2117 خطوط لکھے۔24 پریس ریلیز جاری کئے اور 38 مضامین شائع کروائے۔دنیا بھر کی 85 جماعتوں کے ساتھ مسلسل رابطہ رکھا اور ہر قسم کی تمام اطلاعیں جو پاکستان سے موصول ہوتی تھیں، بلا تاخیر جماعتوں کو پہنچانے کی کوشش کی ہے۔مجھ سے ہدایات لیتے تھے اور ان ہدایات کے مطابق جماعتوں کی راہنمائی کرتے تھے۔مختلف دنیا کے ادارے جو کسی نہ کسی رنگ میں ان حالات سے تعلق رکھ سکتے تھے اُن کو 670 خطوط لکھے اور عالمی نوعیت کے مشہور اخبارات جن کا ایک عالم میں وقار ہے،ایسے اخبارات کو 281 خطوط لکھے اور جہاں تک جماعت احمدیہ کے تذکرے کا تعلق ہے آپ اندازہ کریں کہ کس حد تک اس سیل نے کامیابی سے کام کیا ہے اور گو مخالف بھی پور از ور لگا رہا تھا، ہمارے پاس تو وہ وسائل نہیں تھے، ہمارے پاس تو دنیا کے لحاظ سے اُس کا سوواں حصہ بھی وسائل نہیں تھے ، مگر جماعت احمدیہ نے بھی اپنی بھر پور کوشش کی ہے دعاؤں کے ساتھ۔جو تراشے ریکارڈ کئے گئے ہیں اس وقت تک دنیا کے مختلف اخباروں میں جن میں پاکستان