خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 34
خطابات طاہر جلد دوم 34 افتتاحی خطاب جلسه سالانه ۱۹۸۵ء کی کیفیت ہے چار مبلغین ہیں، آٹھ رضا کار مرد ہیں، چھ رضا کارخواتین ہیں اور اس کے علاوہ آنے جانے والے بہت سے رضا کار ہیں جن کو جب توفیق ملتی ہے وہ شامل ہوتے ہیں اور خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ نہایت عمدگی کے ساتھ یہ سارا بوجھ اٹھایا اور ایک ذرہ بھی مجھے یہ احساس نہیں ہونے دیا کہ میرے مددگاروں میں کسی قسم کی کوئی کمی واقع ہوئی ہے۔اگر چہ خطوط کی تعداد یہاں گری لیکن اُس کی وجہ بہت سی مجبوریاں تھیں، زیادہ تر ڈاک تو پاکستان سے آیا کرتی تھی لیکن اُس کا متبادل ہم نے یہ کیا کہ دفتر مرکز یہ جو دفتر ڈاک یا پرائیویٹ سیکرٹری کا دفتر کہلاتا ہے وہ بھی جاری رہا اور جو خطوط ان تک پہنچ سکتے تھے وہ اُس کا خلاصہ بنا کے ہمیں بھیج دیتے تھے۔بہر حال یہاں اوسط گر کر دواڑھائی سو خطوط روزانہ تک پہنچ گئی لیکن جب پاکستان کی ڈاک آ جاتی تھی اور وہ بھی وقتا فوقتا آتی رہتی تھی تو ایک دن میں بارہ سو بعض دفعہ پندرہ سو سے زائد بھی خطوط آ جاتے تھے۔اس میں جو عملہ ہے اس نے اس قدر حیرت انگیز قربانی کا مظاہرہ کیا ہے کہ آپ سوچ نہیں سکتے کہ کس لگن اور وارفتگی سے بعض لوگوں نے ہمہ وقت حاضری دی ہے۔یعنی کچھ ایسے تھے جو یوں لگتا تھا کہ نڈھال ہو کے گر جائیں گے تب ہمیں پتا لگے گا کہ ان کے اندر طاقت باقی نہیں رہی تھی۔بعضوں کو دیکھ کر میں نے محسوس کیا کہ اپنی طاقت سے بڑھ کر یہ بوجھ اٹھا چکے ہیں لیکن کسی نے زبان سے اُف نہیں کی اور بشاشت کے ساتھ دیکھتے تھے، خوش ہوتے تھے اور شکریوں کے خط لکھتے تھے اور دعائیں دیتے تھے کہ آپ نے ہمیں یہ توفیق عطا فرمائی اور ہم تو مزے لے رہے ہیں زندگی کے اب ہمیں تو پتا ہی نہیں تھا کہ زندگی کا لطف ہوتا کیا ہے۔تفصیل سے اس وقت ان کے ناموں کے بیان کرنے کی گنجائش نہیں لیکن پھر انشاء الله یہ میں سمجھتا ہوں کہ یہ احمدیت کی تاریخ کا ایسا حصہ ہے کہ جتنے کارکنان طوعی طور پر آگے آئے ، اُن سب کے نام اور اُن کی خدمت کے واقعات محفوظ کئے جائیں۔اپنے اپنے شعبہ میں یہ اسماء درج کئے جارہے ہیں۔دوسرا فوری کام بہت اہم یہ تھا کہ Publication Cell قائم کیا جائے اور Publication Cell کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ تمام پاکستان میں، تمام دنیا میں، جہاں تک بھی حکومت پاکستان کے بازو پہنچتے تھے انہوں نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور جماعت احمدیہ کے خلاف انتہائی گندا اور زہریلا پروپیگنڈا کرنا شروع کر دیا اور جہاں تک غیر ممالک