خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 352
خطابات طاہر جلد دوم 352 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ ۱۹۹۴ء دیکھی جائے گی۔پنجابی میں کہتے ہیں کٹن نیڑے کہ موت کٹن ، مکا تو نزدیک ہے نا، اس سے بچنا چاہئے ، موت کی دیکھی جائے گی۔پس ان کا مسلک یہ ہے کہ وقت کے حاکم کی بات مانو ، خدا کی بات دیکھی جائے گی ، کیا ہوگا قیامت کے دن۔اور کہتے یہ ہیں کہ دیکھو! ہم مجبور ہیں ، احمدی لوگ اوپر سے دعوے کرتے ہیں محمد رسول اللہ کی صداقت کے بیچ میں سے مرزا غلام احمد کا نام لیتے ہیں۔یعنی نقب زنی کی اجازت جو خدا نے رسول کو نہیں دی تھی اور وہ صلاحیت نہیں بخشی تھی ، وہ ان لوگوں کو عطا ہوگئی۔شرک فی الرسالت اس کو کہتے ہیں بلکہ اس سے بھی بالا یہ تو شرک فی الالوھیت ہے۔خدائی کے دعویدار بن بیٹھے اور وہ دعویدار جو جھوٹے مشہور ہیں، بات بات پر جھوٹ بولتے ہیں۔ان عدالتوں سے احمدیوں کے خلاف فتوے لے رہے ہیں جن کے متعلق خود ان کے پرانے قانون دان ماہرین کہتے ہیں کہ ساری زندگی کا نچوڑ یہ ہے کہ سارے ہی گواہ جھوٹے نکلے اور جھوٹ پر ہی کاروبار چل رہا ہے۔گلی گلی میں جھوٹ بولا جارہا ہے، آپس کے چھوٹے چھوٹے جھگڑوں میں جھوٹ بولا جا رہا ہے، حد سے زیادہ بدکرداریاں نشو ونما پاچکی ہیں۔ایسی بدکرداریاں جن کے متعلق اگر اسلام کا شہادت کا قانون نافذ کیا جائے تو ایک بھی گواہ کی گواہی قبول کرنا ایک بہت ہی کارے دار کام ہوگا، بڑا مشکل کام ہوگا۔قسمت سے وہ گواہ نکلیں گے جن پر اسلامی شرائط کی رو سے ان کی گواہی کو قبول کرنے کا حق صدور پا آتا ہو۔مگر یہ کہتے ہیں اور وہاں کون گواہ تھا جس کی بات میں بیان کر رہا ہوں۔اللہ علِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ اس کی گواہی پیش کر رہا ہوں، کسی ملاں کی گواہی پیش نہیں کر رہا اور یہ گواہی محمد رسول اللہ کے سامنے خدا نے خود دی ہے۔اتَّخَذُوا أَيْمَانَهُمْ جُنَّةً ان بدبختوں نے اپنے ایمانوں کو ایک ڈھال بنا رکھا ہے کس لئے ، تاکہ مومنوں کو ، خدا کی راہ پر چلنے والوں کو خدا کی راہ سے گمراہ کریں۔یہ عذر وہاں سچا تھا، قبول کرلیا گیا اور پھر بھی کوئی قتل کی سزا، کوئی بدنی سزا تجویز نہیں فرمائی گئی۔کیا یہ خدا سے بھی بالا ہستیاں ہیں؟ جو اپنے جھوٹ پر پھر خدا سے بڑھ کر وہ سزائیں تجویز کرتے ہیں جو خدا نے تجویز نہیں فرمائیں۔سورۃ المنافقون کو جب تک قرآن سے تم نکال نہیں سکتے تمہاری نسلیں مرتی چلی جائیں قرآن کریم سے تم ایک شعشہ بھی ، ایک حرف، ایک نقطہ بھی نکال نہیں سکتے ، یہ سورۃ تمہارے جھوٹا ہونے پر قیامت تک گواہی دے گی اور قیامت کے بعد بھی گواہ بن کے کھڑی ہوگی۔