خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 341 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 341

خطابات طاہر جلد دوم 341 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ ۱۹۹۴ء سامنے یہ فتاویٰ رکھتا ہوں۔حضرت امام شافعی کے متعلق یہ بیان کیا جاتا ہے اس معاملے میں وہ سب سے زیادہ متشدد تھے۔مگر ان کا ایک فتویٰ تھا، اس سے زیادہ اس کی کوئی حیثیت نہیں تھی۔لیکن فتویٰ یہ بیان کرتے تھے که تمام امت مسلمہ اس پر متفق ہے، امام شافعی یہ فتویٰ دیا کرتے تھے کہ شاتم رسول کا قتل لازم ہے اور اس پر تمام امت مسلمہ متفق ہے۔قاضی عیاض صاحب پھر دوبارہ آدھمکے ہیں ان کا بھی یہی فتویٰ تھا اور انہوں نے ایک عجیب و غریب حدیث بیان کی ہے۔اب سنئیے حضرت امام مالک کا بھی حوالہ اس میں ملے گا، حضرت امام مالک کا زمانہ 93ھ سے 189 ھ تک ہے اور ہارون رشید کا زمانہ 170ھ یعنی وہ خلیفہ بنا ہے اس سے 193 ھ تک کا ہے۔یعنی چند سال ہارون رشید کے حضرت امام مالک نے دیکھے ہیں۔قاضی عیاض وہ مفتی ہے جو سپین میں رہا کرتا تھا جب بنو امیہ کے زمانے میں عباسیوں میں سے ایک حصہ ہجرت کر کے پین میں آباد ہوا اور وہاں انہوں نے حکومت قائم کی تو وہاں پھر کئی قسم کے علماء پیدا ہوئے ہیں، ان میں ایک قاضی عیاض بھی تھا۔اب ان کے فتوؤں کی سند اور ان کی حقیقت جو ہے وہ اس مثال سے ظاہر ہے۔قاضی عیاض صاحب بیان کرتے ہیں کہ ہارون رشید نے حضرت امام مالک سے یہ مسئلہ پوچھا کہ جو شخص رسالت مآب ﷺ کو بُرا کہے اس کے بارہ میں آپ کی کیا رائے ہے؟ بعض علماء اس کے لئے کوڑے تجویز کرتے ہیں۔امام مالک نہایت غصے میں آگئے اور فرمایا کہ امت کے نبی ﷺ کے خلیفہ وقت، امت کے نبی ﷺ کو گالی دی جائے اور امت اسے ختم نہ کرے تو کیا ایسی امت زندہ رہ سکتی ہے؟ جو شخص کسی نبی کو گالی دے اسے قتل کیا جائے۔یہ فتویٰ امام مالک کا ہے، موطا امام مالک کو پڑھ لیجئے وہاں کسی فتوے کا ذکر نہیں ، امام مالک کی کسی کتاب کا حوالہ نہیں دیا گیا۔چین بیٹھے ہوئے قاضی عیاض کو یہ قصہ کہاں سے پہنچا، کس نے روایت کی کچھ پتا نہیں اور بغداد میں ہونے والا ایک واقعہ مصنوعی طور پر امام مالک کی طرف منسوب کیا گیا ہے۔اس زمانے کے قاضیوں کا عجیب حال تھاوہ پوچھتے تو سہی کہ امام مالک کو کیا حق تھا یہ فتویٰ جاری کرنے کا، کیا وہ شریعت بنانے والے ہیں قرآن کی کسی آیت کا حوالہ دیا، کسی حدیث کا حوالہ دیا کوئی ذکر کہیں نہیں ملتا۔بس انہوں نے جو چاہا قلم اٹھایا اور لکھ دیا اور اس کو ان لوگوں نے قبول کر لیا کہ ہاں اب تو ثابت ہو گیا کہ امام مالک بھی اس فتوے کے قائل تھے۔