خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 340
خطابات طاہر جلد دوم 340 افتتاحی خطاب جلسہ سالانه ۱۹۹۴ء سے خبر پاکر میں نے اعلان کیا تھا لو عاش ابراهيم لكان صديقاً نبياً اس ماریہ کے پیٹ سے جو بیٹا پیدا ہوا ہے، خدا کی قسم ! اگر یہ زندہ رہتا تو صدیق نبی بنتا۔اور پھر نکلا کیا نعوذباللہ من ذالک آنحضور غلط ثابت ہوئے اور ثابت ہوا کہ یہ جلد بازی کا فیصلہ تھا، قرآنی اور خدا کی تعلیم کے خلاف تھا اس لئے اس پر عمل بھی نہ ہو سکا۔یہ محمد رسول اللہ کا کردار ہے جوتم پیش کرتے ہو اور ناموس رسول کے محافظ ہونے کے دعوے کرتے ہو۔تم ہی سے ناموس رسول کو خطرہ ہے، تم ہی سے سب دنیا میں آنحضرت اور اسلام اور قرآن کی عزت کو خطرہ ہے۔ایک اور روایت ، وہ بھی ایسی بدبخت روایت ہے۔وہ کنویں کی بجائے ، ایک تو کنویں سے نکالنے والی روایت ہے، ایک کھجور سے اتار نے والی ہے۔کہتے ہیں وہ بیچارہ بدنصیب آدمی کھجور پر چڑھا کھجوریں کھا رہا تھا ، چھوٹا سا کپڑا اس کے اوپر لپٹا ہوا تھا۔اس نے جو حضرت علیؓ کے ہاتھ میں تلوار دیکھی تو ڈر کے مارے ایسا کا نیا کہ کپڑا اتر گیا۔(کھجور سے بعد میں اترا کپڑا پہلے اتر چکا تھا۔) اتنی جاہلانہ باتیں ایک انسان پاؤں کی ٹھوکر سے بھی ان چیزوں کو رد کرنے میں تر قد محسوس کرے گا۔اس لائق نہیں ہیں یہ چیزیں، یہ خبیثانہ باتیں جو رسول اللہ اللہ کی طرف منسوب کی گئی ہیں۔اس لائق بھی نہیں ہیں کہ ان کو ٹھوکر ماری جائے ، اعراض اور استغفار کا مقام تھا لیکن ان لوگوں نے اپنے ذاتی گند کو اس طرح اچھالا ہے، اپنے دماغوں کو اس طرح نگا کیا ہے کہ شاید ہی کم کسی دنیا کے مذہب کے علماء کی تحریروں میں ایسی مثال ملتی ہو۔اور وہ لفظ تو میں نے پڑھ کے سنائے نہیں، وہ میں آپ کو پڑھ کے سناؤں تو شرم کے مارے آپ پسینہ پسینہ ہو جائیں ، جس طرح بیان کیا ہے وہ مزے لے لے کر قلم نے۔یہ واقعہ یوں ہوا، پھر یہ دیکھا گیا، پھر یہ دیکھا گیا۔اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رُجِعُونَ ، لوگ تو اس دنیا کے اس دور کے انسان کیا از منہ گزشتہ کے بھی انسان نہیں ہیں۔قرآن کریم جب نازل ہوا، تو محاورہ عربوں میں رائج ہوا تھا، یہ زمانہ جاہلیت کی باتیں ہیں۔یہ باتیں جو ہیں زمانہ جاہلیت سے بھی پہلے کی جب ابھی انسان نہیں بنا تھا، جانوروں کی دنیا کی باتیں ہیں۔دوسری بنا انہوں نے فتاویٰ پر کی ہے، حدیثوں کے بعد فتوے پر فتویٰ جاری کرتے ہیں۔امام شافعی کا فتویٰ، فلاں امام کا فتویٰ اور اس پر بنارکھ کر جھوٹی باتیں منسوب کرتے ہیں، جھوٹے دعوے کرتے ہیں اور قطعی طور پر ان کا جھوٹ ظاہر و باہر اور عیاں ہے۔میں مثال کے طور پر آپ کے