خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 331 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 331

خطابات طاہر جلد دوم 331 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ ۱۹۹۴ء قتل ہوا اور یہودی اس پر بہت سیخ پا ہوئے یہ بنو قینقاع سے تعلق رکھتے تھے۔تو انہوں نے اپنا ایک وفد آنحضور ﷺ کی خدمت میں اس قتل کے خلاف احتجاج کے لئے بھیجا۔اس وفد نے آنحضور کی خدمت میں حاضر ہو کر احتجاج کیا کہ آپ کو کیا اخلاقی حق تھا کہ آپ ہمارے اس رہنما کے قتل کا حکم دیتے یا صحابہ کو اجازت دیتے کہ وہ قتل کرتے۔آنحضور ﷺ نے فرمایا ! بیٹھوں، میری بات سنو۔یہ واقعہ ہوا ہے ان کی بد عہدی کا، یہ واقعہ ہوا ہے ان کے ظلم و ستم کا ، یہ واقعہ ہوا ہے ان کی مفسدانہ کارروائیوں کا، ایک ایک کر کے وہ واقعات بیان فرمائے۔جن کو سن کر وہ وفد لا جواب ہو کر بغیر کسی بعد میں پیدا ہونے والی انتقامی کارروائی کے خیال کے وہاں سے رخصت ہوا اور پھر یہ معاملہ اس وقت کی تاریخ میں ہمیشہ کے لئے دفن کر دیا گیا۔پس یہ حقیقت حال ہے اس کے خلاف اور کوئی کسی قسم کی گواہی نہیں ملتی کہ یہ دو واقعات آنحضور ﷺ نے ، یعنی یہ دو قتل جن کی اجازتیں وقت کے دستور کے مطابق اور اخلاقی دستور کے مطابق اور شریعت کی اجازت کے مطابق ظالموں کو بدعہدی کی سزا کے طور پر صادر ہوئیں، یہ دونوں احکامات ظالموں کو ان کے ظلم کی سرکوبی کے لئے بد عہدی کے نتیجے میں وہ سزائیں وارد کرنے کے لئے جو ان کا طبعی نتیجہ تھیں، آپ نے جاری فرمائے اور اس کا ہتک رسول سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ور نہ ہتک رسول تو مدینے کی گلیوں میں ہورہی تھی ، گستاخان رسول وہاں آزادانہ دندناتے پھرتے تھے۔وہ کون لوگ تھے جن کا قرآن کریم کی اس سورۃ میں ذکر کیا گیا ہے جو میں نے آپ کے سامنے تلاوت کی تھی کہ مدینے کی گلیوں میں آنحضور کی گستاخیاں ہورہی تھیں ،صحابیات کی گستاخیاں ہورہی تھیں اور قرآن کریم بتا تا ہے کہ پردے کے احکام میں حکم کی ایک وجہ یہ تھی تا کہ یہ لوگ پہچان لیں کہ کون ہیں؟ یہ نہ کہہ سکیں کہ ہمیں پتا نہیں تھا کہ یہ مسلمان عورتیں ہیں اس لئے جیسا کہ ہمارا اپنا رواج ہے ہم نے او باشی کا طریق اختیار کیا۔پس قرآن کریم نے آنحضرت ﷺ اور آنحضرت ﷺ کے صحابہ کی تک صلى الله الله کے کوئی ایسے واقعات پیش نہیں کئے جن کے نتیجے میں خدا تعالیٰ نے مسلمانوں کو جوابی حملے میں قتل عام کی اجازت دی ہو۔پس سنت رسول کو سنت رسول کے خلاف کیسے تم استعمال کر سکتے ہو، یہ ناممکن ہے کہ آنحضور کے کردار میں تضاد ہو، اگر تضاد ہو تو قرآن کی رُو سے آپ سچے نبی نہیں بنتے کیونکہ قرآن کریم